پاکستان میں 3 برس کے دوران بجلی 155 فیصد مہنگی ہوئی، سی سی پی

کئی علاقوں میں بجلی بل گھروں کے کرائے سے بھی زیادہ ہوگئے ہیں، مسابقتی رپورٹ میں انکشاف

فوٹو: فائل

پاکستان میں تین سال کے دوران بجلی 155 فیصد مہنگی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

مسابقتی کمیشن آف پاکستان کی جانب سے سولر انرجی سیکٹر پر اسٹڈی رپورٹ جاری کردی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ مہنگی بجلی کے باعث صارفین سولر پینلز پر منتقل ہونے پر مجبور ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان 5 سال میں سولر پینلز کی لیڈنگ مارکیٹس میں شامل ہوگیا، اس وقت انسٹالڈ کپیسٹی 35 گیگا واٹ، امپورٹس 50 گیگا واٹ سے تجاوز کرگئی ہے رپورٹ کے مطابق پاکستان میں لاکھوں صارفین اب بھی بجلی کی سہولت سے محروم ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بجلی کا ترسیلی نظام اپ گریڈ کرنے، اسمارٹ میٹرنگ،گرڈ آٹومیشن کی سفارش کی گئی ہے۔ مسابقتی کمیشن کا قابل تجدید توانائی کی طرف منتقلی کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے ممکنہ سولر انرجی پاکستان کی موجودہ ضرورت سے کہیں زیادہ ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں سولر کے استعمال اور چین سے سولر پینلز کی درآمد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، پاکستان گزشتہ 5 سال میں سولر پینلز کی لیڈنگ مارکیٹس میں شامل ہوگیا۔ پاکستان میں زیادہ تر سولر استعمال غیر دستاویزی ہے، غیر معیاری سولر آلات صارفین اور مارکیٹ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے، موسمیاتی تبدیلی کے باعث معیشت کو نقصانات میں نمایاں اضافے کا خدشہ ہے، 2050 تک نقصانات جی ڈی پی کے چھ فیصد کے مساوی ہو سکتے ہیں۔

مسابقتی کمیشن کے مطابق نیٹ میٹرنگ کے تحت محدود بجلی ہی گرڈ سے منسلک ہے، آمدن بڑھنے کے ساتھ سولر اپنانے کا رجحان بھی بڑھتا ہے، سولر پینلز اور بیٹریز سستی ہونے سے رجحان میں تیزی آئی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مہنگی بجلی سے بچنے کے لیے صارفین سولر کی طرف جارہے ہیں۔ کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے سولر مارکیٹ پراپنی رپورٹ میں مسابقت اور سرمایہ کاری میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اصلاحات کے لیے ٹھوس اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔

پاکستان میں شمسی توانائی کی مارکیٹ کا مسابقتی جائزہ کے عنوان سے جاری اس رپورٹ میں مارکیٹ میں داخلے کی رکاوٹیں کم کرنے، شفافیت بڑھانے اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے مخصوص تجاویز پیش کی گئی ہیں۔

اسٹڈی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ نظام میں کئی ساختی مسائل موجود ہیں جن میں بجلی کی ترسیل کے نظام کی کمزوری، پالیسی میں ابہام، اور مصنوعات کے معیار سے متعلق خدشات شامل ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں تاکہ مسابقت کو فروغ دیا جا سکے اور شعبے کی پائیدار ترقی ممکن ہو اہم سفارشات میں بجلی کی تقسیم کے نظام کی فوری بہتری شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق پرانے نظام دو طرفہ بجلی کے بہاوٴ کو موٴثر طریقے سے سنبھالنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، جس کے باعث وولٹیج میں اتار چڑھاوٴ پیدا ہوتا ہے اور نیٹ میٹرنگ کے پھیلاوٴ میں رکاوٹ آتی ہے۔

کمیشن نے ملک بھر میں جدید میٹرنگ نظام کے نفاذ اور گرڈ کی خودکار نگرانی کے نظام کو متعارف کرانے پر بھی زور دیا ہے تاکہ حقیقی وقت میں نگرانی بہتر ہو، نقصانات کم ہوں اور قابلِ تجدید توانائی کو موٴثر طریقے سے نظام میں شامل کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ بجلی کی مارکیٹ میں اصلاحات میں تاخیر کا حوالہ دیتے ہوئے کمیشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مسابقتی بجلی کی خرید و فروخت کے نظام کے نفاذ کو تیز کیا جائے، اور عبوری طور پر صنعتی علاقوں اور خصوصی اقتصادی زونز کے لیے قابلِ تجدید توانائی کے پائلٹ معاہدے متعارف کرائے جائیں تاکہ سستی بجلی کی فراہمی اور مسابقت کو فروغ دیا جا سکے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں تین سال کے دوران بجلی 155 فیصد مہنگی  ہوئی، جس کی بڑی وجوہات میں کیپسٹی پیمنٹس، روپے کی قدر میں کمی بڑی وجوہات ہیں ۔

مسابقتی کمیشن کے مطابق کئی علاقوں میں بجلی بل گھروں کے کرائے سے بھی زیادہ ہوگئے ہیں کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے سولر شعبے میں مسابقت اور سرمایہ کاری میں رکاوٹوں کی نشاندہی کرتے ہوئے بجلی کے ترسیلی نظام کی فوری بہتری،جدید میٹرنگ اور گرڈ نظام متعارف کرانے ،سستی بجلی کے لیے مسابقتی نظام کے نفاذ کو تیز کرنے اور غیر معیاری سولر آلات کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کی تجاویز دیدی ہیں
 

Load Next Story