جنگ بندی تجویز پر امریکا اور ایران کا مؤقف آگیا
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران امریکا جنگ بندی تجویز میں کلیدی کردار ادا کیا
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے پاکستان سمیت مصر اور ترکیہ نے ثالث کا کردار ادا کیا ہے اور دونوں ممالک کو ایک ڈرافٹ بھی پیش کیا گیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس کانفرنس میں جنگ بندی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی عقلمند شخص ایسی صورتحال کو قبول نہیں کرے گا۔
انھوں نے مزید کہا کہ جنگ بندی دراصل صرف ایک وقفہ ہوتا ہے جس سے مخالف فریق کو دوبارہ طاقت حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے۔ ایران کا اصل مطالبہ جنگ کا مکمل خاتمہ ہے نہ کہ وقتی توقف کرنا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ماضی کے تجربات کی بنیاد پر ہم سمجھتے ہیں کہ صرف جنگ بندی کافی نہیں بلکہ یہ ضمانت بھی چاہیئے کہ مستقبل میں جنگ دوبارہ نہ ہو اور یہ ضمانتیں کسی بین الاقوامی ادارے سے نہیں بلکہ طاقت اور جوابی حملوں کے ذریعے حاصل ہوں گی۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ جنگ بندی منصوبہ بہت سی دستیاب تجاویز میں سے ایک ہے اور ٹرمپ نے فی الوقت اس کی منظوری نہیں دی۔ آپریشن ایپک فیوری جاری ہے۔
اہلکار نے بی بی سی کو مزید بتایا کہ اس حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج ایک پریس کانفرنس بھی کریں گے اور اپنا مؤقف پیش کریں گے۔