آئل انڈسٹری نے حکومت کا گارنٹیڈ ریٹرن ماڈل مسترد کردیا

قیمتوں کے موجودہ نظام میں تبدیلی توانائی اور معیشت کیلیے خطرناک ہوسکتی ہے

اسلام آباد:

آئل انڈسٹری نے موجودہ آئل پرائسنگ فارمولے میں مجوزہ تبدیلیوں کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ گارنٹیڈ ریٹرن ماڈل اپنانے کی صورت میں حکومت کو سال بھر سبسڈی دینا پڑے گی، جو مالی طور پر ناقابلِ برداشت ہوگا۔

سابق وزراء اور ماہرین کی جانب سے پاکستان کے ریفائننگ سیکٹر پر جاری بحث نے ایک بار پھر قیمتوں کے نظام کو موضوعِ بحث بنا دیا ہے، تاہم صنعت سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ اس بحث میں ریفائنری معیشت کی پیچیدگیوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

آئل انڈسٹری کے مطابق موجودہ پرائسنگ نظام عالمی معیار کے مطابق ہے اور بین الاقوامی مارکیٹ سے ہم آہنگی کو یقینی بناتا ہے۔

اس کے برعکس گارنٹیڈ ریٹرن ماڈل کا مطلب حکومت پر مسلسل سبسڈی کا بوجھ ڈالنا ہوگا، جس سے مالی خسارہ بڑھ سکتا ہے۔

انڈسٹری کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان کی لسٹڈ ریفائنریز کو 100 ارب روپے سے زائد کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ اس شعبے میں سرمایہ کاری پر منافع دیگر صنعتوں کے مقابلے میں کم ترین سطح پر ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ریفائننگ مارجنز فطری طور پر غیر مستقل ہوتے ہیں اور عموماً جغرافیائی و سیاسی حالات سے متاثر ہوتے ہیں، ایسے مواقع کم ہوتے ہیں جب منافع زیادہ ہو، جبکہ اکثر اوقات ریفائنریز کو دباؤ کا سامنا رہتا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ریفائنری مصنوعات جیسے فرنس آئل، پٹرول اکثر خام تیل کی قیمت سے کم نرخوں پر فروخت ہوتے ہیں، جس سے مجموعی منافع متاثر ہوتا ہے۔

انڈسٹری کا مؤقف ہے کہ اگر کم منافع کے دوران مارکیٹ بیسڈ نظام برقرار رکھا جاتا ہے تو وقتی منافع کے دوران حکومتی مداخلت کا مطالبہ پالیسی میں عدم تسلسل پیدا کرے گا اور سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر کرے گا۔

Load Next Story