قومی اسمبلی اجلاس: ملکی توانائی، سبسڈی اور پیٹرولیم قیمتوں پر شدید مباحثہ
قومی اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن اور حکومت کے ارکان نے پٹرولیم مصنوعات، ٹیکس ریونیو، سبسڈی اور صوبائی خرچوں کے حوالے سے اظہار خیال کیا۔
اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اجلاس کے دوران چھٹیاں نہیں کرنی چاہئیں، سب کو بولنے کا موقع دیا جائے، اور قومی حکومت کی طرف جانا ضروری ہے، اور افغانستان اور امریکہ کے ساتھ تعلقات پر بھی زور دیا۔
پیپلز پارٹی کی رکن شرمیلا فاروقی نے پٹرولیم مصنوعات پر قیمتوں میں اضافے کی مذمت کی اور کہا کہ حکومت پٹرولیم کمپنیز کے منافع کا مارجن کم کرے اور جامع لائحہ عمل مرتب کرے۔
انجینئر حمید حسین نے تیراہ آپریشن کے متاثرین کی مشکلات کا ذکر کیا اور سپیکر سے متاثرین کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت حاصل کی۔
نور عالم خان نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے سے ہر چیز مہنگی ہو گئی، اور حکومت عوام کو بھول رہی ہے۔ انہوں نے سعودی عرب اور ایران کے تعلقات کا حوالہ دیا اور کہا کہ عوام کے مفاد میں فیصلے کیے جائیں۔
عالیہ کامران نے ٹیکس ریونیو میں کمی کے حوالے سے توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا، جس کا جواب وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے دیتے ہوئے کہا کہ پرائمری بیلنس برقرار رکھنا حکومت کا ہدف ہے، اور ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عاطف خان نے کہا کہ ایوان میں بات کرنے کی اجازت نہیں ملتی اور پٹرول کی قیمتیں واپس نہ ہونے تک مریم نواز کے جیٹ پر سفر پر اعتراض ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے وضاحت کی کہ وزیراعظم کوئی نیا جہاز نہیں لے رہے، اور چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ کے پاس پرانے جہاز ہیں، جبکہ اپوزیشن نے مریم نواز کے گیارہ ارب روپے کے جہاز پر سوالات اٹھائے۔
مرزا اختیار بیگ نے کہا کہ راتوں رات پٹرول پر 55 روپے اضافہ کرکے کمپنیوں کو فائدہ پہنچایا گیا، اور عالمی قیمتیں بڑھنے پر عوام پر بوجھ پڑتا ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب نے کہا کہ سبسڈی کے تحت تیل پر مجموعی سبسڈی دی جا رہی ہے، بچت پروگرام میں تھرڈ پارٹی آڈٹ ہو رہا ہے، اور سبسڈی کی قسطیں عوام تک پہنچ رہی ہیں۔ انہوں نے کلین اینڈ گرین انرجی کے لیے ٹاسک فورس کے قیام کا اعلان بھی کیا۔
اجلاس کو کل شام 5 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔