خارگ پر حملوں کے بعد امریکی تیل کی مارکیٹ میں ہلچل، قیمت میں مزید اضافہ

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایرانی جزیرے خارگ پر حملوں کے بعد تیل کی مارکیٹ میں بڑا اضافہ ہوا، رپورٹ

ایران کے جزیرے خارگ پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کی رپورٹ کے بعد امریکی خام تیل کی مارکیٹ میں بڑی ہلچل دیکھی گئی اور قیمت میں دو فیصد سے زائد اضافہ ہوگیا۔

خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ایران کے تیل برآمد کے اہم مرکز جزیرہ خارگ پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کی رپورٹس کے بعد امریکی تیل کے مرکزی معاہدے میں اضافہ ہوگیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکا کے مئی میں ترسیل کے لیے ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 2.1 فیصد اضافے کے ساتھ 114.71 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔

اسی طرح جون میں ترسیل کے معاہدے میں انٹرنیشنل بینچ مارکیٹ برینٹ نارتھ سی کروڈ کی قیمت میں 0.4 فیصد اضافہ ہوا اور 110.22 ڈالر فی بیرل ہوگئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز نہ کھولنے کی صورت میں ایران پر حملے کرنے کی دھمکی دیے جانے کے بعد امریکی خام تیل کی قیمت میں 1.12 ڈالر اضافہ ہوا ہے۔

امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ کی قیمت میں 1.12 یا 1.1 فیصد اضافے سے خام تیل کی قیمت 113.52 ڈالر فی بیرل ہوگئی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران جب 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیا تھا تو ملک میں گیس کی قیمت میں 4.10 ڈالر فی گیلن کا بڑا اضافہ ہوا تھا، جس سے غیرمعمولی اضافہ قرار دیا گیا تھا اور بتایا گیا تھا کہ ایران پر حملوں کے بعد یہ اضافہ 37 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔

تیل کی عالمی مارکیٹ میں گزشتہ روز بڑا بھونچال آیا تھا اور امریکی خام تیل کی قیمت 2.35 فیصد اضافے سے 114.16 ڈالر فی بیرل ہوگئی تھی جبکہ عالمی معیار برینٹ کروڈ 1.72 فیصد اضافے سے 110.91 ڈالر فی بیرل ہوگیا تھا۔

Load Next Story