عدالت کو توہینِ عدالت کے معاملات سننے اور ان پر فیصلہ دینے کا مکمل اختیار ہے، وفاقی آئینی عدالت

وفاقی آئینی عدالت قرار دیا کہ توہینِ عدالت کا اختیار براہِ راست آئینِ پاکستان 1973 کے آرٹیکل 204 اور 189 سے اخذ ہوتا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت پاکستان نے ایک اہم آئینی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ عدالت کو توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کرنے، اس کی سماعت کرنے اور اس پر فیصلہ دینے کا مکمل اختیار حاصل ہے، چاہے توہینِ عدالت آرڈیننس 2003 میں اس عدالت کا واضح ذکر موجود نہ ہو۔

وفاقی آ ئینی عدالت کی جانب سے جاری تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ، جس میں جسٹس سید ارشد حسین شاہ شامل تھے، نے سی پی ایل اے نمبر 5312 آف 2024 کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ توہینِ عدالت کا اختیار براہِ راست آئینِ پاکستان 1973 کے آرٹیکل 204 اور 189 سے اخذ ہوتا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ توہینِ عدالت کی سزا دینے کا اختیار کسی بھی آئینی عدالت کی بنیادی اور ناگزیر صفت ہے، جو اسے اپنے آئینی فرائض مؤثر انداز میں انجام دینے کے قابل بناتا ہے۔

دورانِ سماعت درخواست گزار سراج احمد نے خود پیش ہو کر عدالت کے دائرہ اختیار پر اعتراض اٹھایا۔ ان کا مؤقف تھا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے رجسٹرار کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی زیر التوا ہے۔

اس لیے وفاقی آئینی عدالت اس معاملے کی سماعت کا اختیار نہیں رکھتی۔تاہم عدالت نے اس اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ آئین میں ترمیم کے بعد وفاقی آئینی عدالت کو توہینِ عدالت کے معاملات سننے اور ان پر فیصلہ دینے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔

Load Next Story