وزیراعظم سمیت دیگر کی بریت کیخلاف درخواست پر تفصیلی فیصلہ جاری

تحریری فیصلہ چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے درخواست گزار وشال شاکر کی درخواست پر جاری کیا

لاہور ہائیکورٹ نے وزیراعظم شہباز شریف سمیت دیگر کی بریت کے خلاف دائر درخواست پر تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے درخواست خارج کرنے کا حکم دے دیا۔

تحریری فیصلہ چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے درخواست گزار وشال شاکر کی درخواست پر جاری کیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ شہباز شریف کی بریت کے خلاف درخواست پر رجسٹرار آفس کا اعتراض برقرار رکھا جاتا ہے اور درخواست خارج کی جاتی ہے۔ درخواست گزار نے ایف آئی اے منی لانڈرنگ مقدمے میں بریت کو چیلنج کیا تھا، تاہم عدالت کے مطابق درخواست گزار ایک پرائیویٹ شخص ہے اور کیس میں فریق بھی نہیں۔

فیصلے میں کہا گیا کہ بریت کو چیلنج کرنے کا اختیار وفاقی حکومت یا پبلک پراسیکیوٹر کے پاس ہوتا ہے اور قانون کے مطابق اسپیشل سینٹرل عدالت کے فیصلے کو یہی حکام اعلیٰ عدالت میں چیلنج کر سکتے ہیں۔

عدالت نے نشاندہی کی کہ درخواست گزار نے تین سال چار ماہ بعد بریت کے فیصلے کو چیلنج کیا جبکہ وکیل بریت میں کسی غیر قانونی پہلو کی نشاندہی بھی نہ کر سکے۔

عدالت کے مطابق ٹرائل کورٹ نے شہباز شریف کے خلاف مواد موجود نہ ہونے پر بریت کی درخواست منظور کی اور قانون کے مطابق ملزم کو شک کا فائدہ دینا لازم ہوتا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس مکمل ریکارڈ موجود تھا اور اسے ریکارڈ کا جائزہ لینے کا اختیار حاصل تھا، لہٰذا شہباز شریف کو بری کرنا قانون کے مطابق تھا۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کی بریت کا فیصلہ صرف اسی صورت کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے جب وہ کمزور یا قانون کے مطابق نہ ہو، جبکہ موجودہ معاملے میں ایسا کوئی پہلو ثابت نہیں ہوا۔

Load Next Story