نجی تصاویر ڈاؤن لوڈ کرنے والے فیس بک انجینئر کیخلاف تحقیقات شروع

سابق ملازم پر 30 یزار کے قریب تصاویر ڈاؤن لوڈ کرنے کا الزام ہے

ٹیکنالوجی کمپنی میٹا میں کام کرنے والا ایک سابق ملازم فیس بک سے نجی تصاویر ڈاؤن لوڈ کرنے کے الزام پر تحقیقات کا سامنا کر رہا ہے۔

لندن سے تعلق رکھنے والے اس انجینئر پر الزام ہے کہ اس نے ایسا پروگرام ڈیزائن کیا تھا جس سے پلیٹ فارم کے سیکیورٹی چیکس کو بائی پاس کر کے وہ لوگوں کی نجی تصاویر تک رسائی حاصل کر سکتا تھا۔

میٹروپولیٹن کے سائبر کرائم یونٹ کے ایک اسپیشلسٹ سراغ رساں نے فیس بک صارفین کی پرائیویسی کی اس مبینہ خلاف ورزی کے حوالے سے انکوائری شروع کردی ہے۔

میٹا نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ خلاف ورزی ایک سال سے زیادہ عرصہ قبل سامنے آئی تھی، جس کے بعد کمپنی نے معاملہ برطانیہ میں پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔

ٹیکنالوجی کمپنی نے مزید بتایا کہ فیس بک صارفین کو آگاہ کر دیا گیا ہے کہ ملزم کو نوکری سے نکال دیا گیا ہے اور پلیٹ فارم کے سیکیورٹی سسٹمز کو اپ گریڈ کر دیا گیا ہے۔

Load Next Story