پاکستان کا امن مشن اور خودمختاری کا عالمی چیلنج
آج کی دنیا ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں انسانیت دم توڑ رہی ہے اور بارود کا دھواں فضاؤں میں زہر گھول رہا ہے۔
ہم ایک ایسے جدید دور میں جی رہے ہیں جہاں ٹیکنالوجی نے ستاروں تک رسائی تو دے دی ہے، مگر افسوس کہ انسان کے دل تک پہنچنے کا راستہ ہم بھول چکے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال، خاص طور پر ایران اور فلسطین کے سلگتے ہوئے مسائل، محض دو ملکوں کا جھگڑا نہیں بلکہ یہ پوری عالمی برادری کے ضمیر کا امتحان ہے۔ جب ہم خودمختاری کے احترام کی بات کرتے ہیں، تو اس کا مطلب صرف سرحدوں کی حفاظت نہیں ہوتا بلکہ اس میں ایک قوم کی غیرت، اس کے مذہب کا تقدس اور اس کے معصوم بچوں کے مستقبل کی ضمانت چھپی ہوتی ہے۔
ایران پر حالیہ حملے اور وہاں کی مقتدر شخصیات، خصوصاً امام خامنہ ای جیسے مدبر رہنما کے وقار کو نشانہ بنانا عالمی امن کے منہ پر طمانچہ ہے۔ ایران نے جس طرح اپنی بقا کی جنگ لڑی اور اپنی خودمختاری کا دفاع کیا، وہ اس کا مسلمہ حق ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بڑی طاقتیں کیوں بار بار امن کے اس نازک شیش محل پر پتھر پھینک رہی ہیں؟
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اس کشیدگی نے ایران کی معیشت کو اربوں ڈالرز کا نقصان پہنچایا، وہاں کے تعلیمی ادارے اور ترقیاتی منصوبے اس آگ کی نذر ہو رہے ہیں اور عام آدمی کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے۔
دوسری طرف فلسطین کا حال دیکھ کر روح کانپ اٹھتی ہے؛ 35 ہزار سے زائد شہداء، جن میں اکثریت معصوم بچوں اور خواتین کی ہے، کیا یہ عالمی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان نہیں؟ غزہ کا ہر ٹوٹا ہوا گھر اور ہر یتیم بچہ دنیا کے انصاف پسندوں سے پوچھ رہا ہے کہ آخر ہمارا گناہ کیا ہے؟
اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں پاکستان کی خارجہ پالیسی ایک روشن چراغ بن کر ابھری ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ ایک ’’بڑے بھائی‘‘ کا کردار ادا کرتے ہوئے ثابت کیا ہے کہ وہ صرف اپنی ذات تک محدود نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ اور انسانیت کا درد رکھتا ہے۔
پاکستان کا ’’امن مشن‘‘ کسی خاص بلاک کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ہے۔ ہماری قیادت نے جس طرح تحمل کا مظاہرہ کیا اور ایران و دیگر ممالک کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کیا، اس نے ثابت کردیا کہ پاکستان ایک ذمے دار اور امن پسند ایٹمی قوت ہے۔ پاکستان کا یہ بیانیہ کہ ’’ہم امن میں سب کے شراکت دار ہیں مگر جنگ میں کسی کے نہیں‘‘، آج دنیا کے ہر فورم پر گونج رہا ہے۔ یہ پاکستان ہی ہے جو بکھرتی ہوئی انسانیت کو جوڑنے کی تڑپ رکھتا ہے اور سرحدوں کے احترام کو امن کی پہلی شرط قرار دیتا ہے۔
اب وقت آگیا ہے کہ عالمی ادارے، خصوصاً اقوامِ متحدہ، او آئی سی اور عالمی عدالتِ انصاف، صرف بیانات اور قراردادوں کے خول سے باہر نکلیں۔ ان اداروں کو بحث مباحثہ چھوڑ کر اب عملی طور پر میدان میں آنا ہوگا۔ عدل و انصاف تب تک قائم نہیں ہوسکتا جب تک فیصلے برابری کی بنیاد پر نہ ہوں۔ اگر یہ ادارے صرف بڑی طاقتوں کے مفادات کا تحفظ کریں گے، تو دنیا میں جنگل کا قانون نافذ ہو جائے گا جہاں طاقتور کمزور کو کھا جائے گا۔
اقوامِ متحدہ کو چاہیے کہ وہ اپنی حیثیت کو پہچانے اور فلسطین و ایران جیسے حساس معاملات پر لیت و لعل کے بجائے فوری انصاف فراہم کرے۔ عالمی عدالتِ انصاف کو اللہ اور انسانیت کو حاضر ناظر جان کر ایسے فیصلے کرنے چاہئیں جو تاریخ میں مثال بن جائیں۔
خلیجی ممالک اور تمام ترقی یافتہ اقوام کو بھی ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔ جنگوں سے کبھی مسئلے حل نہیں ہوتے بلکہ نسلیں مٹ جاتی ہیں۔ بحیرہ احمر کی تجارتی بندش سے لے کر تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں تک، ہر نقصان کا اثر براہِ راست غریب کی جھونپڑی پر پڑ رہا ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ جدید ٹیکنالوجی ہمیں ایک دوسرے کو مٹانے کے لیے نہیں بلکہ ایک دوسرے کی زندگی سنوارنے کے لیے دی گئی ہے۔ اگر ہم نے آج ایک دوسرے کے مذہب، سرحدوں اور تقدس کا احترام نہ کیا، تو یہ ٹیکنالوجی ہمیں مٹی میں ملا دے گی۔
آخر میں میرا پیغام ان تمام عالمی طاقتوں اور اداروں کے لیے ہے کہ انسانیت کو سب سے مقدم رکھیں۔ کسی معصوم بچے کو یتیم کرنے سے پہلے یہ سوچیں کہ ظلم کی یہ آگ آپ کے اپنے گھر تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ پاکستان نے امن کا راستہ دکھا دیا ہے، اب یہ دنیا کا کام ہے کہ وہ اس راستے پر چل کر زمین کو امن کا گہوارہ بنائے۔
آئیے، بارود کے بجائے محبت بانٹیں، نفرت کے بجائے اخوت پھیلائیں اور ایک ایسی دنیا کی بنیاد رکھیں جہاں انصاف کا راج ہو اور ہر انسان خود کو محفوظ تصور کرے۔ پاکستان کے اس امن مشن کو تقویت دینا دراصل انسانیت کی بقا کی ضمانت ہے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔