دودھ میں ملاوٹ کا پتا کیسے لگائیں؟ گھر بیٹھے آسان ٹیسٹ جان لیں

دودھ کو زیادہ گاڑھا، سفید اور کریمی دکھانے کے لیے اس میں ڈٹرجنٹ، اسٹارچ، یوریا اور گھی بھی شامل کیا جاتا ہے

فوٹو: فائل

دودھ ہماری روزمرہ غذا کا اہم حصہ ہے اور صحت کے لیے بے حد ضروری سمجھا جاتا ہے، لیکن موجودہ دور میں ملاوٹ کے بڑھتے رجحان نے اس بنیادی خوراک پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

پہلے جہاں دودھ میں صرف پانی ملانے کی شکایات ہوتی تھیں، اب اس میں مختلف کیمیکلز شامل کیے جا رہے ہیں جو انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق دودھ کو زیادہ گاڑھا، سفید اور کریمی دکھانے کے لیے اس میں ڈٹرجنٹ، اسٹارچ، یوریا اور یہاں تک کہ ڈالڈا گھی بھی شامل کیا جاتا ہے۔ تاہم چند سادہ گھریلو طریقوں کی مدد سے یہ جاننا ممکن ہے کہ دودھ خالص ہے یا ملاوٹ شدہ۔

یوریا کی موجودگی کیسے چیک کریں؟

اگر دودھ کا ذائقہ غیر معمولی محسوس ہو تو اس میں آدھا چمچ سویا بین یا دال کا پاؤڈر شامل کریں اور چند منٹ بعد سرخ لٹمس پیپر ڈالیں۔ اگر پیپر نیلا ہوجائے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ دودھ میں یوریا شامل کیا گیا ہے۔

صابن یا ڈٹرجنٹ کی پہچان

دودھ کو جھاگ دار بنانے کےلیے بعض اوقات اس میں صابن ملایا جاتا ہے۔ اس کی جانچ کےلیے دودھ اور پانی کو برابر مقدار میں ایک بوتل میں ڈال کر ہلائیں۔ اگر جھاگ زیادہ بنے اور دیر تک قائم رہے تو سمجھ لیں کہ دودھ میں ڈٹرجنٹ موجود ہے، جبکہ خالص دودھ میں جھاگ جلد ختم ہوجاتا ہے۔

ڈالڈا گھی کی ملاوٹ کا ٹیسٹ

اگر دودھ میں غیر معمولی چکنائی محسوس ہو تو اس میں چند قطرے ہائیڈروکلورک ایسڈ اور ایک چمچ چینی شامل کریں۔ چند منٹ بعد اگر رنگ سرخ ہوجائے تو اس کا مطلب ہے کہ دودھ میں ڈالڈا گھی ملایا گیا ہے۔

اسٹارچ یا آٹے کی ملاوٹ کی جانچ

دودھ کو گاڑھا دکھانے کے لیے بعض افراد اس میں آٹا یا اسٹارچ شامل کرتے ہیں۔ اس کا پتا لگانے کے لیے گرم دودھ میں آیوڈین کے چند قطرے ڈالیں۔ اگر رنگ نیلا ہوجائے تو یہ ملاوٹ کی واضح نشانی ہے، جبکہ خالص دودھ کا رنگ تبدیل نہیں ہوتا۔

پانی کی ملاوٹ کیسے پہچانیں؟

دودھ میں پانی کی آمیزش جانچنے کے لیے ایک ہموار سطح پر دودھ کا ایک قطرہ ڈالیں۔ اگر دودھ آہستہ آہستہ بہے تو یہ خالص ہے، لیکن اگر فوراً بہنے لگے تو اس میں پانی شامل ہونے کا امکان ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ ہم روزمرہ استعمال کی اشیا، خصوصاً دودھ، کی جانچ کرتے رہیں تاکہ مضر صحت ملاوٹ سے بچا جا سکے اور گھر والوں کی صحت کو محفوظ رکھا جا سکے۔

Load Next Story