پاکستان نے سفارت کاری کا ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے، سابق صدر آزاد جموں و کشمیر
فوٹو: فائل
آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر اور امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر سردار مسعود خان نے امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی اور اسلام آباد میں مذاکرات کے حوالے سے پاکستان کے کردار کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے سفارت کاری کا ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے اور پاکستان کی وجہ سے ناممکن کام ممکن ہوا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے پروگرام ‘سینٹر اسٹیج’ میں گفتگو کرتے ہوئے سابق سفیر سردار مسعود خان نے کہا کہ پاکستان نے سفارت کاری کا ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے، تاریخ میں کبھی پاکستان کو ایسا کردار نہیں دیا گیا جو اب دیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے آغاز سے ہی پاکستان نے جنگ بندی کی کوششیں شروع کر دی تھیں، پاکستان کی وجہ سے نا ممکن کام ممکن ہوا ہے، امریکا اور ایران کو ایک میز پر لانا کسی کے وہم و گمان میں نہیں تھا، اب تک امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات ہوئے ہیں لیکن یہ پہلی دفعہ ہوا ہے کہ دونوں ممالک براہ راست مذاکرات کی ٹیبل پر بیٹھیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ ایران کا مطالبہ ہے کہ ایران کا آبنائے ہرمز پر کنٹرول کو تسلیم کیا جائے، یہ مطالبہ بھی ہے کہ تمام محاذوں بشمول لبنان میں جنگ بند کی جائے، مذاکرات کا ایجنڈا بہت پیچیدہ ہے، دونوں فریقین پر شدید دباؤ ہے اور ایران کے لیے تو یہ اپنی بقا کا معاملہ ہے۔
سردار مسعود خان نے کہا کہ اس جنگ میں عام شہریوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، ایران عسکری اعتبار سے طاقت ور ملک ہے، ایران میں کون سی تنصیبات حملوں کی زد میں نہیں آئیں، امریکا نے ایران کی فضائیہ، بحریہ اور تیل کی تنصیبات برباد کر دیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا پر بھی دباؤ ہے ان کو یہ جنگ بہت مہنگی پڑ رہی ہے، اس جنگ سے امریکی عوام کو کوئی واضح اہداف نظر نہیں آئے، امریکی سمجھتے ہیں کہ یہ اسرائیل کی جنگ ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے اب بھی جارحانہ بیانات سامنے آ رہے ہیں اور ایران کی طرف سے بھی سخت بیانات آ رہے ہیں، یہ سخت بیانات ایک دوسرے پر دباؤ ڈالنے کے لیے ہیں۔
سابق پاکستانی سفیر نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ مذاکرات کی ٹیبل پر لچک کا مظاہرہ کیا جائے گا، پاکستان پیس میکر کا کردار ادا کر سکتا ہے، پاکستان امن کا باب لکھ چکا ہے اور وہ امن کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
سردار مسعود خان نے کہا کہ معرکہ حق کے بعد ابلاغ اور سفارتی سطح پر پاکستان کو کامیابیاں ملیں، معرکہ حق کے بعد پاکستان کے لیے سفارتی دروازے کھلتے نظر آئے اور پاکستان خطے میں ایک اہم ملک بن کر ابھرا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں امریکا، یورپ اور خلیجی ممالک سے سرمایہ کاری لانی چاہیے، خلیجی ممالک کو پاکستان کا شکر گزار ہونا چاہیے، خلیجی ممالک پر اس جنگ کے بہت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔