بلوچستان: واپس نہ جانے والے افغان مہاجرین کے 100 سے زائد گھر مسمار

کاریزات میں 60 ہزار افغان مہاجرین ہیں جن میں زیادہ تر کے پاس دستاویزات موجود نہیں، انہیں واپسی کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی

کوئٹہ:

بلوچستان کی ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے کاریزات علاقے میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کے خلاف گرینڈ آپریشن تیز کردیا، 24 گھنٹے کی مہلت ختم ہونے کے بعد انتظامیہ نے کارروائی شروع کردی اور اب تک 100 سے زائد غیر قانونی گھروں کو مسمار کر دیا ہے۔

ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق کاریزات کے علاقے میں فی الحال تقریباً 60 ہزار افغان مہاجرین مقیم ہیں جن میں سے زیادہ تر کے پاس درست دستاویزات موجود نہیں ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ مہاجرین سیکیورٹی خطرات غیر قانونی رہائش اور مقامی وسائل پر دباؤ کا باعث بن رہے ہیں۔

ڈی ایس پی عنایت کاکڑ نے آپریشن کی نگرانی کرتے ہوئے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے افغان مہاجرین کو واضح طور پر 24 گھنٹے کی مہلت دی تھی کہ وہ رضاکارانہ طور پر علاقہ چھوڑ کر واپس چلے جائیں مہلت ختم ہونے کے بعد اب سخت کارروائی کا آغاز ہو چکا ہے اور اب تک 100 سے زائد گھروں کو مسمار کیا جا چکا ہے۔

غیر قانونی ڈھانچوں کو مسمار کرنے کا سلسلہ جاری ہے تاکہ غیر قانونی رہائش کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکے۔

عینی شاہدین کے مطابق آپریشن کے دوران پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی بڑی تعداد نے کاریزات کے مختلف مقامات پر چھاپے مارے، بلڈوزرز اور ہیوی مشینری کے ذریعے کئی غیر قانونی گھروں کو مسمار کر دیا گیا جبکہ کچھ مہاجرین اپنے سامان سمیت علاقہ چھوڑنے لگے ہیں تاہم اب بھی بڑی تعداد ایسے افراد موجود ہیں جو مہلت کا انتظار کر رہے تھے۔

ضلعی انتظامیہ کا واضح پیغام ہے کہ اب بھی وقت ہے، افغان مہاجرین اگر فوری طور پر رضاکارانہ طور پر واپس افغانستان چلے جائیں تو مزید سخت کارروائی سے بچ سکتے ہیں بصورت دیگر پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے مزید بڑے پیمانے پر آپریشنز کیے جائیں گے جن میں گرفتاریاں اور ڈی پورٹیشن بھی شامل ہو سکتی ہے۔

یاد رہے کہ بلوچستان بھر میں غیر قانونی افغان مہاجرین کے خلاف کارروائیاں گزشتہ کئی ماہ سے جاری ہیں حکومت کا موقف ہے کہ صرف درست دستاویزات رکھنے والے مہاجرین ہی رہ سکتے ہیں جبکہ undocumented اور غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو وطن واپس بھیجا جا رہا ہے۔

اس آپریشن سے مقامی آبادی میں مخلوط ردعمل سامنے آیا ہے کچھ لوگ اسے سیکیورٹی کی بہتری کے لیے ضروری قرار دے رہے ہیں جبکہ انسانی حقوق کے بعض کارکنوں نے مہاجرین کی مشکلات کا ذکر کیا ہے۔

Load Next Story