نیتن یاہو کی مشرق وسطیٰ کے نقشے کے سامنے کھڑے ہوکر مسلم ممالک کیخلاف ہرزہ سرائی
تل ابیب: اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ خطے کے چھ ممالک نے اسرائیل کو ’گھیرنے اور ختم کرنے‘ کی کوشش کی، لیکن ان کے بقول ’ہم نے ہی انہیں کمزور کر دیا ہے اور ابھی مزید کرنا باقی ہے‘۔
یہ بیان انہوں نے مشرقِ وسطیٰ کے نقشے کے سامنے کھڑے ہو کر دیا، جسے تجزیہ کار ایک سخت اور جارحانہ پیغام کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ان کے اس بیان نے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
دوسری جانب سفارتی سطح پر اہم پیش رفت بھی سامنے آ رہی ہے، جہاں اسرائیل اور لبنان کے سفیروں کے درمیان واشنگٹن ڈی سی میں منگل کے روز مذاکرات متوقع ہیں۔ یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔
ماہرین کے مطابق نیتن یاہو کے حالیہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل اپنی پالیسی میں سختی برقرار رکھے ہوئے ہے، جبکہ دوسری جانب مذاکرات کا آغاز اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سفارتی حل کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ بیانات میں سختی ہے، تاہم واشنگٹن میں ہونے والی ملاقات خطے میں ممکنہ کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم کوشش ہو سکتی ہے۔