گوجرانوالہ: ڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال میں مبینہ غفلت، ماں اور نومولود بچی جاں بحق

ہسپتال ذرائع کے مطابق متوفیہ وفا محبوب کو زچگی کے لیے ہسپتال لایا گیا تھا

فوٹو: فائل

 

گجرانوالہ کے ڈی ایچ کیو اسپتال میں مبینہ طبی غفلت کے باعث دورانِ زچگی ماں اور نومولود بچی کے جاں بحق ہونے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا۔

ہسپتال ذرائع کے مطابق متوفیہ وفا محبوب کو زچگی کے لیے ہسپتال لایا گیا تھا جبکہ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ وہ باقاعدگی سے چیک اپ بھی کروا رہی تھیں۔

اہلِ خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ ڈاکٹروں نے خون کی کمی کا جواز بنا کر دو بوتل خون تو حاصل کیا، تاہم اسے مریضہ کو لگایا نہیں گیا۔

اہلِ خانہ کے مطابق زچگی کے کچھ دیر بعد نومولود بچی جاں بحق ہو گئی جبکہ بعد ازاں ماں بھی دم توڑ گئی۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ اس دوران سینئر ڈاکٹرز موجود نہیں تھے۔

واقعے کے بعد ہسپتال میں کہرام مچ گیا اور لواحقین کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا۔

میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر امتیاز رانا کا کہنا ہے کہ مریضہ کو پیچیدگیوں اور خون کی کمی کا سامنا تھا، تاہم واقعے کی مکمل تحقیقات کے لیے تین سے چار ڈاکٹرز پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس کی بھی غفلت ثابت ہوئی اسے کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا، جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے صحت کے معاملات پر سخت ہدایات جاری ہیں۔

انکوائری کمیٹی تشکیل

گوجرانوالہ کے سول ہسپتال میں دورانِ زچگی مریضہ اور نومولود بچی کی ہلاکت کے معاملے پر انتظامیہ حرکت میں آ گئی۔

ایم ایس کے مطابق واقعے کی تحقیقات کے لیے تین سینئر پروفیسرز پر مشتمل فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ کمیٹی میں گائنی پروفیسر ڈاکٹر عالیہ زینب اسد، پروفیسر ڈاکٹر عمران کھوکھر اور پروفیسر ڈاکٹر عاصم سلیم شامل ہیں۔

ایم ایس کا کہنا ہے کہ کمیٹی اے ایم ایس ڈاکٹر شازیہ افضال کی ڈیوٹی کے دوران ہونے والی اموات کی مکمل انکوائری کرے گی اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ جس کی بھی غفلت ثابت ہوئی، انکوائری رپورٹ کی روشنی میں اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، جبکہ کمیٹی کو دو روز میں تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

Load Next Story