مصنوعی ذہانت کے ’دانشور‘ اور خبر کا قتلِ عمد

علمی و فکری چور دوسروں کے افکار کو مشینی ’ری سائیکل‘ کرکے بڑے فخر سے اپنے نام سے پیش کررہے ہیں

 

آج کے اس پُرفتن دور میں جہاں اخلاقیات کی دیواریں بوسیدہ ہو رہی ہیں، وہاں سچ بولنا تو درکنار، سچ کو پہچاننا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہو چکا ہے۔

ہم ایک ایسے عہدِ زوال میں سانس لے رہے ہیں جہاں مشینوں نے انسان کی عقل کو یرغمال بنا لیا ہے اور شعور پر پہرے بٹھا دیے ہیں۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ اب دکھائی دینے والا ہر منظر سچ نہیں ہوتا اور سنائی دینے والی ہر صدا حقیقت نہیں ہوتی۔

مصنوعی ذہانت کے اس بے لگام سیلاب نے جہاں بڑے بڑے علمی برج الٹ دیے ہیں، وہاں سب سے زیادہ نقصان اس مقدس امانت کا کیا ہے جسے ہم ’’خبر‘‘ کہتے ہیں۔ صحافت، جو کبھی سماج کا آئینہ اور ریاست کا چوتھا ستون تھی، اب ان ڈیجیٹل بہروپیوں کے ہاتھوں اپنی حرمت نیلام کر رہی ہے۔

وہ وقت اب قصہ پارینہ معلوم ہوتا ہے جب خبر کی تصدیق کے لیے خاک چھانی جاتی تھی، رپورٹر اپنی جوتیاں چٹخاتا فیلڈ میں نکلتا تھا اور کالم نگار ایک ایک لفظ کو سچائی کی کسوٹی پر پرکھنے کے لیے کئی کئی راتیں آنکھوں میں کاٹتا تھا۔ اب وہ محنت، وہ لگن اور وہ دیانت قصہِ ماضی ہوئی۔ اب خبر ’’پیدا‘‘ نہیں کی جاتی بلکہ کمپیوٹر کی بے جان اسکرین پر ’’تخلیق‘‘ کی جاتی ہے۔

ایک ادنیٰ سی اطلاع کو مصنوعی ذہانت کے سانچے میں ڈھال کر اس میں سنسنی کا وہ نمک مرچ لگایا جاتا ہے کہ اصل حقائق کہیں سسکیاں لیتی دم توڑ دیتے ہیں۔ یہ خبر کا ابلاغ نہیں، بلکہ خبر کا قتلِ عمد ہے، جو نہایت صفائی سے ڈیجیٹل لیبارٹریوں میں سرانجام دیا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا کے اس کرب ناک ہنگامے میں اب ایک ایسی خود ساختہ اشرافیہ متعارف ہوئی ہے جسے میں ’پیرِ قلم چھاپ‘ کے لقب سے نوازتا ہوں۔ یہ وہ نام نہاد ’دانشور‘ ہیں جن کا مطالعہ صفر، مشاہدہ ناپید اور جن کی علمی بساط محض اسکرین کے چند انچ تک محدود ہے، مگر جادو دیکھیے کہ ایک بٹن دباتے ہی ان کے ’قلم‘ سے الفاظ کا ایسا سیلاب بہنے لگتا ہے کہ سادہ لوح قاری دنگ رہ جائے۔

مگر صاحب! یاد رکھیے کہ ان الفاظ میں مشینی چاشنی تو ہو سکتی ہے، دل کی تڑپ نہیں؛ ان میں جملوں کی ترتیب تو نظر آئے گی، مگر فکر کی ترکیب غائب ہوگی۔ یہ حضرات دراصل اس علمی اور صحافتی مافیا کا جدید روپ ہیں جو تحقیق کی مشقت سے بھاگ کر دوسروں کے افکار کو مشینوں کے ذریعے ’ری سائیکل‘ کرتے ہیں اور پھر بڑے فخر سے اپنے نام کی تختی سجا کر داد وصول کرتے ہیں۔ یہ فکری ڈکیتی نہیں تو اور کیا ہے؟

یہ مشینی جادوگر اب صرف تحریر کے میدان تک محدود نہیں رہے۔ اب کسی کی آواز چوری کرنا یا کسی کی تصویر کو ڈیپ فیک جیسی غلیظ ٹیکنالوجی کے ذریعے کسی بھی ناپسندیدہ منظر میں جوڑ دینا ان کے لیے بچوں کا کھیل بن چکا ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ کیسے کسی معتبر شخصیت یا سیاسی قائد کے بیان کو ایسا مسخ کیا جاتا ہے کہ چند لمحوں میں پورے ملک میں آگ لگ جاتی ہے۔

جب ایک بے جان مشین کو یہ اختیار مل جائے کہ وہ انسانی جذبات اور معاشرتی اقدار کا تماشا بنائے، تو پھر معاشرے میں سچائی کا جنازہ نکلنا یقینی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ان لوگوں کے ہاتھ میں ایک ایسا خطرناک ہتھیار بن چکی ہے جو کسی کی دستار اچھالنے میں ایک پل کی تاخیر نہیں کرتے۔

اس تمام تر صورتحال میں سب سے بڑا المیہ ’’ادبی اور فکری چوری‘‘ کا ہے۔ ماضی کے چور تو پھر بھی پکڑے جانے کے ڈر سے کچھ لحاظ کرتے تھے، مگر اب اس مصنوعی نظام نے چوری کو ایک ’فن‘ بنا دیا ہے۔ کسی دوسرے کی برسوں کی محنت کو چند سیکنڈز میں مشینی اسلوب دے کر اپنا بنا لینا اب کوئی عیب ہی نہیں رہا۔ یہ علمی بددیانتی ہماری نئی نسل کی تخلیقی صلاحیتوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ نوجوان لکھاری سمجھ بیٹھے ہیں کہ کتابوں کی گرد جھاڑنے اور لائبریریوں میں وقت گزارنے سے بہتر ہے کہ مشین سے ’کمانڈ‘ دے کر کالم لکھوا لیا جائے۔ یہ سوچ دراصل اس بانجھ پن کی علامت ہے جو ہمارے مستقبل کے ادب کو اپاہج بنا دے گی۔

سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس جدید دور کی مخالفت کر رہے ہیں؟ بالکل نہیں۔ ٹیکنالوجی ایک بہترین غلام ثابت ہو سکتی ہے، مگر اسے آقا بنا لینا انسانیت کی توہین ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہمارے ’ڈیجیٹل بقراطوں‘ نے اسے اپنا قبلہ و کعبہ بنا لیا ہے۔ وہ بھول بیٹھے ہیں کہ جو کسک ایک انسان کے دل سے نکل کر قلم کے راستے کاغذ پر نقش ہوتی ہے، وہ دنیا کا کوئی بھی الگورتھم پیدا نہیں کرسکتا۔ قلم کی حرمت الفاظ کی شعبدہ بازی میں نہیں، بلکہ حق بیانی کی کڑواہٹ میں پوشیدہ ہے۔ سچ وہی ہے جو قلم کی نوک سے لہو بن کر ٹپکے، نہ کہ وہ جو بجلی کے تاروں سے چھن کر آئے۔

پیرِ قلم کی چھاپ وہی ہوتی ہے جو سماج کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھے، جو کسان کے پسینے کی مشقت کو سمجھے اور جو تاریخ کی دھول سے سچائی کے موتی تلاش کر کے لائے۔ ایک بے جان مشین کبھی یہ نہیں سمجھ سکتی کہ ایک باپ اپنے بچوں کی روٹی کے لیے کن کٹھن مراحل سے گزرتا ہے یا ایک حق پرست محقق سچ کی تلاش میں کن خارزاروں کی سیر کرتا ہے۔ مشینیں صرف ’ڈیٹا‘ پر چلتی ہیں، جبکہ انسانی معاشرے روایات، احساسات اور سچی گواہیوں پر کھڑے ہوتے ہیں۔ مشین کبھی وہ آنکھ نہیں دیکھ سکتی جو ظلم دیکھ کر نم ہوتی ہے، اور نہ ہی وہ اس قلم کی تڑپ محسوس کر سکتی ہے جو وقت کے جابر سلطان کے سامنے کلمہِ حق بلند کرتا ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ قاری بھی اپنی آنکھیں کھولے۔ ہر چمکتی ہوئی تحریر سونا نہیں ہوتی اور ہر وائرل ہونے والی ویڈیو حق نہیں ہوتی۔ ہمیں ’تحقیق و تفتیش‘ کے اس کلچر کو دوبارہ زندہ کرنا ہوگا جو ہماری علمی و ادبی روایت کا طرۂ امتیاز رہا ہے۔ اگر ہم نے ان مشینی دانشوروں کی پھیلائی ہوئی اس دھند کا راستہ نہ روکا، تو وہ وقت دور نہیں جب ہماری تاریخ، ہماری ثقافت اور ہماری سچائیاں ایک مشینی ڈھونگ بن کر رہ جائیں گی۔

آئیے آج یہ عہد کریں کہ ہم قلم کی حرمت کو ان مشینی لٹیروں کے حوالے نہیں کریں گے۔ ہم ٹیکنالوجی کو اپنے مقصد کے لیے استعمال تو کریں گے، مگر اسے اپنے ضمیر اور قلم کی اصلی چھاپ مٹانے کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے۔

یاد رکھیے، جب معاشرے میں ضمیر کی موت واقع ہو جائے اور قلم مشینوں کا محتاج ہو جائے، تو پھر وہاں سچ کی جگہ صرف سراب باقی رہ جاتا ہے۔ اور ہم اس سراب کو حقیقت نہیں بننے دیں گے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

Load Next Story