فلسطین کے حق میں احتجاج، لندن پولیس نے 500 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کرلیا
لندن: برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں فلسطین کے حق میں ہونے والے بڑے احتجاج کے دوران پولیس نے 500 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کر لیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ احتجاج ٹریفالگر اسکوائر میں منعقد کیا گیا، جہاں فلسطین حامی کارکنان بڑی تعداد میں جمع ہوئے اور فلسطین ایکشن کی حمایت میں نعرے بازی کی۔
میٹرو پولیٹن پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران 18 سے 87 سال کی عمر کے مجموعی طور پر 523 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاریاں انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت کی گئیں اور تمام اقدامات قانون کے مطابق تھے۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی نے ان گرفتاریوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائیاں شہری آزادیوں اور پُرامن احتجاج کے بنیادی حق کے خلاف ہیں۔
یاد رہے کہ فلسطین ایکشن گروپ کو جولائی میں دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا تھا، جس کے تحت اس کی رکنیت یا حمایت پر 14 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ تاہم بعد ازاں ہائی کورٹ نے آزادیٔ اظہار کے خدشات کی بنیاد پر اس پابندی کو معطل کر دیا تھا، جس کے خلاف برطانوی حکومت نے اپیل دائر کر رکھی ہے۔
رپورٹس کے مطابق عدالتی حکم کے بعد کچھ عرصے کے لیے گرفتاریاں روک دی گئی تھیں، مگر مارچ کے آخر میں پولیس نے دوبارہ کارروائیاں شروع کر دیں۔ پابندی کے بعد سے اب تک تقریباً 3,000 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جن میں سے بیشتر کو گروپ کی حمایت میں پلے کارڈز اٹھانے پر حراست میں لیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال برطانیہ میں آزادیٔ اظہار اور سیکیورٹی قوانین کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازع کی نشاندہی کرتی ہے۔