بری کوئی خبر نہیں آتی

مریض عشق پر رحمت خدا کی مرض بڑھتا گیا جوںجوں دواکی

barq@email.com

کیا آپ کو ایسا نہیں لگ رہا ہے کہ آج کل ہمارے ہاں ’’خوش خبریوں‘‘ کی پیداوار کچھ زیادہ بڑھ گئی ہے ، اخبارات اٹھائیے تو ایسے لگتا ہے جیسے اخبار نہ ہو ’’خوش خبری نامے ‘‘ ہوں ، ہرچہار اطراف بلکہ شش جہات سے خوش خبری اتر رہی ہو، نازل ہو رہی ہو بلکہ برس رہی ہوں۔

ویسے تو اس ملک میں خوش خبریوں کی کاشت وبرداشت ابتدا ہی سے چلی آرہی ہے اورہرقسم کی حکومت نے اس ملک کو اورکچھ بھی نہیں دیا ہو بلکہ لیا ہی لیا ہوا ہے لیکن خوش خبریاں بے پناہ دی ہوئی ہیں۔ لیکن کچھ عرصے سے جب سے حضرت بانی نے اس ملک کو اپنے قدوم لزوم سے شرف یاب کیا ہے اوراسے اپنے ’’وژن‘‘ کے نشانے بلکہ نشانوں پر لیا ہے اوراپنے انصاف کے سایہ عاطفت کے تلے لایا ہے، تب سے خوشخبریوں کی پیداوار میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے سننے میں آنے لگا ہے بلکہ خوش خبریاں سنانے والے نئی قسم کے ڈھنڈورچی بھی پیدا ہوئے ہیں۔

 اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ پہلے صرف وزیر لوگ ہی خوش خبریاں ڈسٹری بیوٹ کرتے تھے اب اس کام کے لیے خصوصی قسم کے ماہرین ،مشیر اورمعاون بھی رکھے جانے لگے ہیں بلکہ سرکاری محکموں کے سربراہوں ، چیف سیکریٹری، سیکریٹری اورڈائریکٹر لوگوں سے بھی شاید کہا گیا ہے کہ اورتوتم کچھ بھی نہیں کرتے ہو، سوائے دفتر میں آرام کرنے ، تنخواہیں مع مراعات اوراوپر کا من وسلویٰ بٹورنے کے سوا ۔اس لیے خوش خبریاں دینے کے کام میں… لگے رہو منابھائی ۔ہوجاؤ، اور وہ ہوگئے ہیں صبح خوش خبری، شام خوش خبری اپنا تو کام ہے خوش خبری ، قیام خوشخبری ، طعام خوش خبری۔

بلکہ ایک اوروجہ ہماری سمجھ دانی میں یہ بھی آرہی ہے کہ چونکہ اس ملک کے کالانعاموں کی پوری زندگی ہی ’’بدخبری‘‘ بن گئی ہے یا بنا دی گئی اس لیے اس کے اوپر خوش خبریوں کا چھڑکاؤ ہوتے رہنا چاہیے کہ ہروقت تازہ بتازہ رہناچاہیے تاکہ یہ مستقل اوردائم آباد بدخبری ’’مہنگائی ‘‘ خوب خوب پھلے اورپھولے بھی۔ کہ یہی بدخبری ہی تو اس ملک کے اشراف کی دودھیل گائے اورثمربار درخت ہے اوراس ہمہ جہت ’’بدخبری‘‘ کے ہوتے ہوئے اورکسی بھی خبر یا بدخبری کی ضرورت نہیں ہے کہ اس کی برکات سے خود عوام کالانعام خود ایک بڑی ’’بدخبری‘‘ بن چکے ہیں

بوجھ ہوتا جو غموں کاتو اٹھا بھی لیتے

زندگی بوجھ بنی ہوتو اٹھائیں کیسے ؟

 اصل میں ہوا یوں کہ اس ملک میں آنے جانے والی، جانے آنے والی اورپھر جانے آنے والی اور آنے جانے والی حکومتوں کو احساس ہوگیا ہے کہ گزشتہ پون صدی میں ہم نے اس ملک کو اپنی ایمانداریوں ،دیانت داریوں ، فن کاریوں اورحسن انتظام سے اتنا ’’بہت کچھ‘‘ دے چکے ۔ اسے مرگ ناگہانی سے بچانے کے لیے خوش خبریوں کے ’’ڈرپ‘‘ چڑھانا ضروری ہے ،ورنہ ان کی وفات حسرت آیات اورانتقال پرملال طے ہے اوراگر یہ مرگئے توہمیں کھلائے گا کون؟ پلائے گا کون اور  چرائے گا کون؟ اورہم نچوڑیں گے پھرکس کو، ککھ کریںگے کس کو ؟ اورچومیں گے چبائیں گے کس کو۔۔ کس کے گھر جائے گا ہمارا سیلاب بلا ان کے بعد۔۔ سوخوش خبریوں کے ڈرپ ہیں جو چڑھائے جارہے ہیںجب کہ

مریض عشق پر رحمت خدا کی

مرض بڑھتا گیا جوںجوں دواکی

 ہم نے آپ کو اپنے گاؤں کے اس بابو کا قصہ تو سنایا تھا جو ایک فنڈریز ، فنڈچیز اورفنڈ گریز ادارے میں اکاونٹنٹ تھا اوراس نے اپنے گاؤں میں اتنی شنگل بجری ڈالی تھی جو شکرہے کہ صرف کاغذات میں ڈالی تھی ورنہ اگر حقیقت میں ڈالتا تو گاؤں کے سارے مکان اس کے نیچے دب چکے ہوتے ۔

ہمارے یہ خوش خبریوں والے بھی اچھا ہے کہ خوش خبریاں صرف سناتے ہیں اگر انھیں ’’عملی‘‘ کرتے تو ہم اب تک جنت نشین ہوچکے ہوتے اور ہمارا یہ ملک کویت، دبئی یا امارات بن چکا ہوتا، صرف ہمارے صوبے خیر پخیر میں اگر زیادہ نہیں صرف گزشتہ ایک بلکہ سال بھی، صرف اس وقت سے بھی حساب لگایا جائے جب سے بانی کے وژن کے مطابق اس مرتبہ جو خوشخبری ٹیم بنائی گئی بلکہ وہ خوش خبری ٹیمیں کہیے،ایک وہ جو چلی گئی ہے اورایک جو لائی گئی اس کی بھی ساری خوشخبریاں ایک طرف کردیجئے اورصرف معاونین اطلاعات کی دی ہوئی خوشخبریاں بھی شمار کی جائیں تو اس وقت صوبے میں ہرشخص کو کم ازکم لکھ پتی ہوناچاہیے تھا ،صوبے میں ایک بھی بیروزگار بیمار یا بیکار نہیں ہوناچاہیے۔

 میرٹ کو مینڈیٹ کے کندھوں پر سوار ہوکر گلی گلی صدائیں دینی چاہیے کہ نوکریاں لے لو۔ یوٹیلٹی لے لو، سولرپینل لے لو،انصاف لے لو امن لے لو۔یا پھر سارے اخبارات پڑھ لیجیے اگر ایک تو کیاآدھی پونی بدخبری بھی کوئی ڈھونڈ لائے تو ہمارا نام بدل کر مینڈیٹ چور رکھ لیجیے ۔ لوگ ڈھونڈ ڈھونڈ کر بدخبری سے اپنے کان آشنا کرنا بلکہ کانوں کا ذائقہ بدلناچاہتے ہیں کہ خوش خبریاں سن سن کاذائقہ خراب ہونے لگا ہے لیکن بدخبری سننے کو نہیں مل رہی ہے ، بہت خوش خبریاں چلی آرہی ہیں ۔

 ایک فلمی بلکہ ڈرامے کا منظر یادآرہاہے، ایک خاتون کی اپنی بیٹی سسرال میں پکی پکی مسلط ہے اس کی بیٹی کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی ہے حالانکہ سارا خاندان بیٹے کا تمنائی اورمنتظر تھا ، مطلب یہ اس کی بیٹی سے خاندان مایوس ہوگیا تھا اورایک دوسری بہو جواس کی بیٹی کی دیورانی تھی اس کی ڈلیوری ہونے والی تھی ، ڈاکٹروں نے ڈلیوری میںپیچیدگی کاخدشہ ظاہرکیاتھا اس کے سارے گھروالے اس کے ساتھ ہستپال گئے ہوئے تھے اوریہ سمدھن گھر میں اکیلی تھی اس کی خواہش تھی کہ اس کی بیٹی کی اس دیورانی کو کچھ ہوجائے خود زچگی میں مرجائے یا اس کی اولاد یا دونوں ہی مرجائیں یاکم ازکم اس کی اولاد نرینہ نہ ہو۔ اتنے میں ٹیلی فون کی گھٹنی بجتی ہے وہ دوڑکر ٹیلی فون کے پاس جاتی ہے لیکن ٹیلی فون اٹھانے سے پہلے اوپر کی طرف دیکھتے ہوئی کہتی ہے۔

بری سے بری خبر سنانا بھگوان۔ لیکن بھگوان اس کی نہیں سنتا، اوربری سے بری خبر اس کو سنا دیتا ہے کہ بیٹا پیدا ہوا ہیے زچہ وبچہ دونوں خیریت سے ہیں ۔

ہمارے بھی کان ’’کچے‘‘ ہوگئے ہیں جس طرح کوئی روزروز مٹھائیاں کھاکر کسی تیکھی چیز کاخواہش مند ہوتا ہے لیکن

کوئی امید بر نہیں آتی

’’بری‘‘ کوئی خبر نہیں آتی

Load Next Story