بے حسی کی انتہا
m_saeedarain@hotmail.com
لاہور کے ایک بڑے اسپتال کی پارکنگ میں کھڑی ایک کار میں اس اسپتال کا نوجوان ڈاکٹر مرا پڑا رہا اور چار روز تک کسی کو پتا نہ چلا۔ جب چار روز بعد کار سے بدبو پھیلی تو لوگ متوجہ ہوئے تو کار میں مذکورہ ڈاکٹرکی لاش پائی گئی جسے بمشکل نکالا گیا تو علاقہ میں سنسنی پھیل گئی تو اسپتال کی انتظامیہ کو ہوش آیا۔ کیوں کہ اسپتال انتظامیہ اور کسی ڈاکٹر کو فکر ہی نہیں ہوئی تھی کہ ڈاکٹر صاحب ڈیوٹی پر کیوں نہیں آرہے، کسی نے ان سے فون پر رابطہ نہیں کیا اور بے حسی کی انتہا یہ ہوئی کہ مرحوم ڈاکٹر کے اہل خانہ کو بھی فکر نہیں ہوئی کہ چار روز سے ان کا پیارا گھر کیوں نہیں آیا، نا کسی سے یہ ہوا کہ وہ اسپتال فون کرکے ہی ڈاکٹر کے متعلق پتا کرلیتا۔
یہ افسوسناک موت ہی نہیں بلکہ ملک کی مجموعی صورت حال ہی ایسی ہوچکی ہے کہ جہاں حکومت اور عوام بے حسی کی انتہاء پر پہنچ چکے ہیں اور کسی کو کسی کی فکر نہیں اور سب ہی بے حسی کا شکار ہیں اور اپنے آپ میں مگن ہیں۔ عوام کو حکومت سے شکایت ہے کہ حکومت کو عوام کی فکر نہیں اور وہ بے حسی سے عوام پر مہنگائی وبیروزگاری بڑھا رہی ہے تو عوام بھی موجودہ صورت حال میں بھی ملک کی فکر کر رہے نا حکومتی اقدامات پر عمل اور دونوں جگہ ہی بے حسی انتہا پر ہے۔
ملک میں بیروزگاری شدید اور مہنگائی کا طوفان آیا ہوا ہے جس کی وجہ ایران ،امریکا جنگ کو قرار دیا جاتا ہے اور یہ حقیقت بھی ہے کہ امریکا و اسرائیل نے مذاکرات جاری رکھتے ہوئے ایران پر حملہ کیا جس کے جواب میں ایران نے بھی وہی کیا جو وہ کرسکتا تھا اور اس نے آبنائے ہرمز بند کرکے دنیا میں پٹرولیم مصنوعات اور گیس کا شدید بحران پیدا کردیا جس کے نتیجے میں پاکستان میں پٹرول و ڈیزل کی قلت تو پیدا نہیں ہوئی مگر حکومت نے ضرورت سے زیادہ نرخ بڑھاکر عوام پر مسلط مہنگائی میں اضافہ کرکے انتہائی بے حسی کا ثبوت دیا اور اپنی مزید آمدنی کے لیے 155 روپے لیٹر اضافہ کرکے یہ نہیں سوچا کہ نتیجہ کیا نکلے گا۔
اتنا اضافہ عوام کی پہنچ سے باہر تھا جس پر سارا ملک چیخ پڑا ، کیوں کہ اتنا زیادہ اضافہ دنیا میں کہیں بھی نہیں ہوا تھا، بعدازاں 80 روپے لیٹر پٹرول میں کمی کرنا پڑی مگر ملک میں پٹرول سے زیادہ اہم اور طلب ڈیزل کی ہے جو پبلک ٹرانسپورٹ، ملک میں مال لانے لے جانے ، ٹرالر ، ٹرک اور بڑی گاڑیاں ہی نہیں پاکستان ریلوے کی گاڑیاں بھی ڈیزل استعمال کرتی ہیں مگر حکومت نے ڈیزل کے نرخ پٹرول سے زیادہ رکھے اور ان کے نرخ کم نہیں کیے جس کی وجہ سے مہنگائی نے مزید بڑھنا تھا جو بڑھی اور وفاق سے زیادہ مال دار صوبائی حکومتوں نے بھی عوام کے لیے متعدد اقدامات کا اعلان کیا جن میں پنجاب حکومت سرفہرست اور سندھ پیچھے رہا۔
صوبائی حکومتوں نے موٹرسائیکل استعمال کرنے والوں کو ماہانہ بیس لیٹر پٹرول ایک سو روپے فی لیٹر رعایت کا اعلان کرکے یہ رعایت ناممکن بنادی اور وفاق کی طرح سندھ و پنجاب حکومتوں نے اس رعایت کو بھی کمائی کا ذریعہ بنالیا ،جس طرح پٹرولیم مصنوعات کو وفاق نے اپنی کمائی کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔ صوبائی حکومتوں نے موٹرسائیکل والوں کو یہ رعایت مشروط طور پر دی کہ وہ مہینہ بھر سرکاری نرخ پر پٹرول خریدیں جس کے بعد صرف ان کے نام رجسٹرڈ موٹرسائیکل والوں کے بینک اکاؤنٹ میں حکومت دو ہزار روپے ٹرانسفر کرے گی۔ یہ رقم کتنے دن میں ٹرانسفر ہوگی اس کی کوئی بھی یقین دہانی نہیں کرائی گئی۔
مسافر گاڑیوں کے لیے حکومت نے جو رعایت اور اعانت کے اعلان کیے ہیں وہ پبلک ٹرانسپورٹ اور ڈیزل پر چلنے والی تمام گاڑیاں اور بڑے اور بااثر دولت مندوں کی ہیں جنھیں ماہانہ بڑی رقم ملتی ہے اور وہ اسے آسانی سے حاصل بھی کرلیں گے مگر موٹرسائیکل استعمال کرنے والوں کی بڑی تعداد امیروں نہیں غریبوں کی ہے جو روزانہ دو تین سو روپے کا پٹرول اپنی جیب کے مطابق ڈلواتے ہیں جن کی موٹرسائیکلیں بھی پرانی اور زیادہ پٹرول سے چلنے والی ہیں اور یہ لوگ بائیک کی ٹنکی نہیں بھرواتے کم پٹرول خریدنے کی سکت رکھتے ہیں اور ان کی مالی حیثیت کمزور ہوتی ہے اور اکثر کے بینک اکاؤنٹ بھی نہیں ہیں انھیں دو ہزار ماہانہ کیسے ملیں گے۔
ان کے لیے کوئی حکومتی اعلان نہیں ہوا، جو حکومتی بے حسی ہے کہ وہ مہینہ بھر 20 لیٹر مہنگا پٹرول کیسے خریدیں گے جو تقریباً دس ہزار کا بنے گا۔ اتنی بڑی رقم خرچ کرکے پھر مہینہ بعد دو ہزار حاصل کرنا ہر ایک کے لیے ممکن نہیں۔ دو ہزار ماہانہ بھی انھیں بذریعہ بینک ملیں گے جن کے نام ان کی بائیکیں رجسٹرڈ ہوگی ۔ غیر رجسٹرڈ بائیکوں والے پہلے حکومت کے پاس اپنے نام بائیک ٹرانسفر کرانے کا خرچہ برداشت کریں۔ ایکسائز دفاتر کے چکر کاٹ کر دو ہزار روپے حاصل کرسکیں گے۔
ایکسائز دفاتر میں رشوت کے بغیر بائیک رجسٹرڈ ہوگی نا حکومت کو انھیں دو ہزار دینا پڑیں گے اور لاکھوں بائیکس لوگوں کے نام پر رجسٹرڈ نہیں ہیں وہ اپنا کام چلارہے ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت ہر ایک کو میسر نہیں جس سے رجسٹریشن فیس حکومت کو ملے گی تو حکومت صرف انھیں ہی دو ہزار روپے ماہانہ دے گی۔
مہنگے پٹرول کے باعث لوگ مجبوری میں ہی اپنی کاریں اور موٹرسائیکلیں سڑکوں پر لارہے ہیں۔ پٹرول بچانے کے لیے کوشاں اور پیدل چلنے پر مجبور کردئیے گئے جنھیں رعایت دینا کم اور پریشان کرنا حکومت کا مقصد اور حکومتی بے حسی ہے۔ غریب اور متوسط طبقہ از خود اپنی بچت کے لیے پٹرول کم استعمال کرنے پر مجبور ہیں اور امیروں کی بے حسی برقرار ہے انھیںاپنی مہنگی گاڑیوں کے لیے مہنگا پٹرول خریدنے سے کوئی خاص اثر نہیں پڑا، صرف بائیکوں والے حکومتی بے حسی کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں اور ان کے لیے سرکاری رعایت کا حصول مشکل بنا دیاگیا ہے۔