فاتح اور مفتوح

دوسری جنگ عظیم جو 1939 سے 1945 تک لڑی گئی کے بعد دنیا میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں رونما ہوئیں۔

دوسری جنگ عظیم جو 1939 سے 1945 تک لڑی گئی کے بعد دنیا میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ یورپ دو حصوں میں تقسیم ہو گیا، نو آبادیاتی نظام کا خاتمہ ہوا، ایشیا اور افریقہ میں یورپی نو آبادیاتی حکومتوں کے خاتمے کے بعد کئی نئے ممالک آزاد ہوئے اور دنیا کے نقشے پر اپنی پہچان بنائی۔ جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر امریکا نے ایٹم بم گرا کر دنیا میں ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کا آغاز کیا۔

عالمی امن کے قیام اور دنیا میں مختلف ممالک کے درمیان جنم لینے والے تنازعات کے حل کے لیے اقوام متحدہ کا ادارہ قائم کیا گیا۔ جنگ عظیم دوم میں تقریباً آٹھ کروڑ کے لگ بھگ انسانوں کی ہلاکتوں کے بعد یورپی طاقتیں زوال کا شکار ہو گئیں اور امریکا اور سوویت یونین بطور سپر پاور دنیا کے نئے منظر نامے کی علامت بن کر سامنے آئیں۔

دنیا کے مختلف ممالک اپنے اپنے مفادات کے تحفظ اور اپنی بقا و سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے امریکا اور سوویت بلاکس میں تقسیم ہوتے گئے۔ امریکا سرمایہ داری نظام کا علم بردار تھا اور سوویت یونین کمیونزم نظریات کی پرچارک تھی۔ دونوں کے درمیان دنیا پر حکمرانی، تسلط اور بالادستی قائم کرنے کی نظریاتی و فوجی کشیدگی جاری رہی، جسے دنیا نے سرد جنگ (Coldwar) سے تعبیر کیا، یہ سلسلہ کئی دہائیوں تک چلتا رہا۔

 افغانستان میں کمیونسٹ حکومت کے خلاف عوامی بغاوت کو دبانے اور حفیظ اللہ امین کو ہٹا کر اپنی مرضی کی کٹھ پتلی حکومت کو اقتدار میں لانے کے لیے سوویت یونین نے افغانستان میں اپنی فوجیں اتار دیں۔ امریکا نے اس جنگ میں افغان مجاہدین کو بھرپور فوجی اور مالی معاونت فراہم کی جنھوں نے پورے ملک میں سوویت فوج کے خلاف 9 سال تک گوریلا جنگ لڑی جس میں 14 ہزار سے زائد سوویت فوجی ہلاک ہوئے۔ طویل جنگ کے باوجود افغانستان پر قبضے کا سوویت خواب پورا نہ ہو سکا۔ ناکامی اور شکست خوردگی کا بوجھ لیے بالآخر سوویت یونین کو 15 فروری 1989 کو افغانستان چھوڑنا پڑا۔

افغانستان میں مداخلت کے باعث سوویت یونین کی فوجی و اقتصادی قوت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ سوویت صدر میخائل گورباچوف کی کمزور و ناقص پالیسیوں کے باعث سوویت یونین ٹوٹ کر 15 نئی آزاد ریاستوں میں تقسیم ہو گیا۔ سوویت یونین کی تحلیل کے بعد دو بڑی عالمی طاقتوں امریکا اور سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ کا خاتمہ ہوا اور امریکا واحد سپرپاور بن کر دنیا پر حکمرانی کرنے لگا۔ اپنی سیاسی طاقت اور معاشی و فوجی قوت کے بل بوتے پر امریکا نے اقوام متحدہ جیسے امن کے عالمی ادارے کے چارٹر اور تمام عالمی قوانین کو اپنے گھر کی لونڈی بنا لیا۔

امریکا میں 11 ستمبر 2001 کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے سانحے کے بعد امریکا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز کرکے ایک نئی کروٹ لی۔ اسامہ بن لادن کی تلاش کے بہانے افغانستان پر حملہ آور ہوا۔ 20 سال تک افغانستان کے پہاڑوں سے سر ٹکراتا رہا لیکن طالبان کو شکست دینے میں ناکام رہا بالآخر 20 سال کی ناکامی کا داغ اور دامن میں شکست کی رسوائیاں سمیٹے 2021 میں افغانستان سے اسے نکلنا پڑا۔ کیمیائی ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی کا الزام لگا کر امریکا نے عراق میں لشکر کشی کی اور صدر صدام حسین کو معزول کرکے تختہ دار پر لٹکا دیا۔

تمام عالمی قوانین کو روندتا ہوا امریکا لیبیا، شام اور وینزویلا تک جا پہنچا اور اس کے صدر کو گرفتار کرکے امریکا لے آیا۔ امریکا کا بغل بچہ اسرائیل گزشتہ دو سال سے فلسطینیوں پر آگ و آہن کی بارش کر رہا ہے اور 70 ہزار سے زائد بے گناہ فلسطینیوں کو شہید کر چکا ہے، اس کے وزیر اعظم نیتن یاہو کے اکسانے پر امریکا و اسرائیل نے مل کر ایران پر 28 فروری کو حملہ کر دیا۔ صدر ٹرمپ کو یہ گھمنڈ تھا کہ وہ وینزویلا کی طرح دو چار دن میں ایران میں رجیم چینج کرکے وہاں بھی اپنا تسلط قائم کر لیں گے لیکن ایران نے اپنے عظیم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت اپنے سائنس دانوں، فوجی سربراہوں اور معصوم و بے گناہ لوگوں کی قربانیوں کے باوجود امریکا کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا۔ 39 روز تک بے مثال جرأت، بہادری اور قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرکے دنیا کو حیران کر دیا۔ صدر ٹرمپ کی پتھر کے زمانے میں پہنچانے کی دھمکیوں سے لے کر ایرانی تہذیب مٹانے کی گیدڑ بھبکیوں تک ایرانی قیادت نے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔ آبنائے ہرمز کو بند کرکے گویا امریکا کی گردن پر پاؤں رکھ دیا۔

جب امریکا کو یقین ہو گیا کہ ایران کو شکست دینا آسان نہیں تو چار و ناچار دھمکیوں اور ڈیڈ لائن کے باوجود امریکا کو جنگ بندی اور مذاکرات کی میز پر آنا پڑا۔ مبصرین اور تجزیہ نگاروں کی متفقہ رائے ہے کہ ایران نے ناقابل یقین مزاحمت کرکے امریکا کے عالمی سطح پر سپرپاور ہونے کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔ امریکا اب 28 فروری کی واحد عالمی طاقت نہیں رہا، 8 اپریل 26 کو دنیا نے نئی کروٹ لے لی ہے۔ مشرق وسطیٰ بھی امریکی جبر سے آزاد ہو گیا ہے۔ گریٹر اسرائیل منصوبہ ایران جنگ کے شعلوں کی نذر ہو گیا۔ اب دنیا ایران کو فاتح اور امریکا کو مفتوح کی نظر سے دیکھ رہی ہے۔ ٹرمپ کے غرور و تکبر نے امریکا سے واحد سپر پاور کا اعزاز چھین لیا ہے۔

Load Next Story