جنوبی کوریا کے صدر نے فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کو ہولوکاسٹ سے تشبیہ دے دی
سیول: جنوبی کوریا کے صدر لی جائے مونگ نے فلسطین میں اسرائیلی کارروائیوں کو دوسری جنگ عظیم کے دوران ہونے والے ہولوکاسٹ سے تشبیہ دے دی، جس کے بعد اسرائیلی حلقوں اور لابی کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
صدر لی جائی مونگ نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل کی فوج نے فلسطینی علاقوں میں جو کارروائیاں کیں، وہ نازی دور میں یہودیوں کے قتلِ عام سے مختلف نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جنگ کے دوران ہونے والی ہلاکتیں اور تشدد عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہیں۔
جنوبی کوریا کے صدر نے اپنے مؤقف کے حق میں ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر شیئر کی، جس میں مبینہ طور پر ایک فلسطینی شخص کو اسرائیلی فوجی کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد عمارت سے نیچے پھینکتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ سن 2024 میں پیش آیا تھا۔
یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا جب اسرائیل میں نازیوں کے ہاتھوں یہودیوں کے قتلِ عام کی یاد میں تقریبات منعقد کی جا رہی تھیں، جس کے باعث اس بیان کی حساسیت اور بھی بڑھ گئی۔
صدر لی جائی مونگ نے اپنے خطاب میں خطے کی مجموعی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عالمی کشیدگی کے اثرات دیگر ممالک تک بھی پہنچ رہے ہیں اور کوریائی عوام بھی مختلف قومی چیلنجز اور مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی حلقوں اور حامی گروپس کی جانب سے اس بیان پر شدید تنقید کی جا رہی ہے اور اسے غیر مناسب اور اشتعال انگیز قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس بیان کے بعد جنوبی کوریا اور اسرائیل کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہونے کا امکان ہے، جبکہ عالمی سطح پر بھی اس پر بحث کا سلسلہ جاری ہے۔