خیبر پختونخوا میں پاکستان کا پہلا ورچوئل اسکول قائم، اے آئی ایجوکیشن اتھارٹی کے قیام کی منظوری
فوٹو: فائل
خیبرپختونخوا حکومت نے تعلیم کے شعبے میں بڑا اور انقلابی اقدام اٹھاتے ہوئے پبلک سیکٹر میں پاکستان کا پہلا ورچوئل اسکول قائم کرنے اور اے آئی ٹیچر متعارف کرانے کا فیصلہ کر لیا۔
یہ فیصلہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے اجلاس میں کیا گیا، جس میں اے آئی ایجوکیشن اتھارٹی کے قیام کی اصولی منظوری بھی دی گئی اور متعلقہ حکام کو ہوم ورک مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی۔
اجلاس میں وزیر اعلیٰ نے ہدایت دی کہ ورچوئل اسکولز کے ذریعے تعلیم حاصل کرنے والے بیرون ملک اور آؤٹ آف اسکول طلبہ کو بھی ریگولر طلبہ کا درجہ دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں ورچوئل اسکولز اور اے آئی ٹیچر کا آغاز وقت کی اہم ضرورت ہے اور یہ دور دراز علاقوں کے طلبہ کے لیے گیم چینجر ثابت ہوں گے۔
وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ Artificial Intelligence طلبہ کو انفرادی سطح پر سیکھنے کے نئے مواقع فراہم کرے گی جبکہ اے آئی بیسڈ سسٹم اساتذہ کا بوجھ کم کرکے تدریسی معیار بہتر بنانے میں مدد دے گا۔ انہوں نے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم اور ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے اقدامات کو سراہا۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ پائلٹ بنیادوں پر صوبے کے 46 سرکاری اسکولوں کو آن لائن نظام تعلیم پر منتقل کیا جا چکا ہے، جن میں بندوبستی اضلاع کے 33 اور ضم اضلاع کے 13 اسکول شامل ہیں۔ مزید 175 اسکولوں کو بھی ورچوئل اسکولز میں تبدیل کرنے کا منصوبہ ہے جبکہ اس کے لیے جون میں اے ڈی پی اسکیم رول آؤٹ کی جائے گی۔
بریفنگ کے مطابق منصوبے کے تحت مرکزی ڈیجیٹل ٹیچنگ اسٹوڈیو اور لائیو انٹرایکٹو کلاسز و لیکچر ریکارڈنگ کے لیے مکمل نظام قائم کیا گیا ہے۔ اے آئی ٹیچر کے ذریعے انگلش، ریاضی، فزکس، کیمسٹری اور بائیولوجی کے مضامین پڑھائے جا رہے ہیں جبکہ یہ سہولت اردو، انگریزی اور پشتو زبانوں میں 24 گھنٹے دستیاب ہوگی۔
حکام کے مطابق یہ منصوبہ خیبرپختونخوا کی پہلی مکمل فعال ورچوئل اسکول سہولت بنے گا۔ منصوبے کی مجموعی لاگت 153.80 ملین روپے ہے جبکہ ٹیلی تعلیم ہب کے قیام پر 44.850 ملین روپے خرچ ہوں گے۔