ایران سے مذاکرات میں امریکا کی پوزیشن کمزور ہے، ہیلری کلنٹن کا انکشاف
واشنگٹن: امریکا کی سابق وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی اور ناکام مذاکرات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اس وقت ایک ’انتہائی کمزور پوزیشن‘ میں آ چکا ہے اور اپنی سفارتی برتری کھو چکا ہے۔
ایک ٹی وی انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے ہیلری کلنٹن نے کہا کہ موجودہ حالات میں امریکا کو ایران پر دباؤ ڈالنے والی طاقت ہونا چاہیے تھا، لیکن صورتحال اس کے برعکس ہو چکی ہے اور واشنگٹن اپنی سفارتی برتری اور لیوریج کھو بیٹھا ہے۔
انہوں نے صدر ٹرمپ کی ٹیم پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مذاکراتی عمل میں ان کے داماد جیرڈ کشنر اور مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی نمائندہ اسٹیو وٹکوف کی شمولیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔
ہیلری کلنٹن کے مطابق موجودہ سفارتی حکمت عملی نے امریکا کی پوزیشن کو کمزور کیا ہے، جس کے باعث نہ صرف مذاکرات متاثر ہوئے بلکہ عالمی سطح پر بھی امریکا کا اثر و رسوخ کم ہوا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور مذاکرات میں تعطل خطے میں مزید غیر یقینی صورتحال پیدا کر سکتا ہے، جبکہ عالمی طاقتوں کی نظریں بھی اس تنازع کے مستقبل پر مرکوز ہیں۔