اسرائیل ترکیہ کو نئے دُشمن کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کررہا ہے، ترک وزیر خارجہ

وزیر خارجہ نے خطے میں سیکیورٹی اتحاد کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیا

ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا کہ بڑھتے ہوئے علاقائی کشیدگی کے درمیان اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو ترکیہ کو ایک نیا دشمن قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ترک سرکاری میڈیا انادولو ایجنسی کے ہیڈکوارٹر میں ایڈیٹرز کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ اسرائیل کو اپنی بقا کیلئے کسی نہ کسی دشمن کی ضرورت ہوتی ہے اور ایران کے بعد اب وہ ترکیہ کو ’دشمن‘ کے طور پر پیش کرنا چاہ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترکیہ سمجھتا ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے ممالک کی جانب سے مداخلت کرنا مناسب نہیں ہے، آبنائے ہرمز کے ذریعے لوگوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے اور کسی بھی ملک کو گزرنے کے لیے فیس ادا نہیں کرنی چاہیے۔

ترک وزیر خارجہ نے ممالک کے درمیان اعتماد کو تقویت دینے کے لیے خطے میں سیکیورٹی اتحاد کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تبصرہ کرتے ہوئے فیدان نے کہا کہ لبنان جو کچھ دیکھ رہا ہے وہ اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کا حصہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ یہ بحران علاقائی تنازع کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

واضح رہے کہ ترک وزیر خارجہ کا یہ بیان صدر رجب طیب ایردوان کی جانب سے نیتن یاہو سمیت 35 اسرائیلیوں کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جن پر شبہ ہے کہ وہ عالمی فلوٹیلا کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

Load Next Story