ایران معاملے پر امریکا اور چین آمنے سامنے، ناکہ بندی کو خطرناک قرار دے دیا

چینی ترجمان کے مطابق ایسے اقدامات سفارتی کوششوں کو کمزور کرتے ہیں اور امن کے امکانات کو متاثر کرتے ہیں

بیجنگ: چین کی وزارت خارجہ نے ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ اقدام‘ قرار دیا ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گاؤ جیاکون نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ یہ اقدام خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھائے گا اور جنگ بندی کے معاہدے کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات سفارتی کوششوں کو کمزور کرتے ہیں اور امن کے امکانات کو متاثر کرتے ہیں۔

یہ ناکہ بندی اسلام آباد میں ہونے والے امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کے بے نتیجہ ختم ہونے کے ایک روز بعد نافذ کی گئی۔

چینی ترجمان نے ان خبروں کو بھی مسترد کیا جن میں کہا گیا تھا کہ چین ایران کو جدید فضائی دفاعی نظام فراہم کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسی رپورٹس بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے چین کو خبردار کیا تھا کہ اگر بیجنگ نے تہران کو فوجی معاونت فراہم کی تو چینی مصنوعات پر 50 فیصد تک ٹیرف عائد کیا جا سکتا ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا نے اس بنیاد پر چین پر اضافی محصولات عائد کیے تو چین بھی سخت جوابی اقدامات کرے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا، چین اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی معیشت اور خطے کے امن پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

Load Next Story