لیڈی کانسٹیبل عائشہ ریاض کے مبینہ اغواء کیس میں اہم پیشرفت

والد کی مدعیت میں درج مقدمے میں تفتیش کے دوران اغواء کا دعویٰ غلط ثابت ہو گیا۔

لیڈی کانسٹیبل عائشہ ریاض کے مبینہ اغواء کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، والد کی مدعیت میں درج مقدمے میں تفتیش کے دوران اغواء کا دعویٰ غلط ثابت ہو گیا۔

پولیس کے مطابق قلعہ گجر سنگھ تھانے میں اغواء کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے ایس ڈی پی او سول لائنز کی سربراہی میں خصوصی ٹیم تشکیل فدی گئی، سیف سٹی کیمروں اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے شواہد اکٹھے کیے گئے۔

تحقیقات میں سامنے آیا کہ عائشہ ریاض نے اپنی مرضی سے نکاح کیا، ان کے مطابق نکاح میں اہلخانہ کی رضامندی شامل نہیں تھی اور گھر والے خلع لینے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں،

ایس پی سول لائنز چوہدری اثر علی کے مطابق اغواء کا مقدمہ ذاتی رنجش اور نکاح پر ناراضی کی بنیاد پر درج کروایا گیا تھا، حقائق سامنے آنے پر کیس کی قانونی نوعیت تبدیل کر دی گئی ہے،

پولیس کا کہنا ہے کہ لیڈی کانسٹیبل 11 اپریل کو ڈیوٹی پر نہ پہنچنے پر غیر حاضر رپورٹ بھی ہوئی تھی جبکہ مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔

Load Next Story