سوشل میڈیا، انفلوئنسر کلچر اور معاشرتی زوال

سوشل میڈیا ایک طاقتور ہتھیار ہے، یہ معاشرے کو بنا بھی سکتا ہے اور بگاڑ بھی سکتا ہے

گزشتہ چند برسوں میں سوشل میڈیا نے دنیا بھر کی طرح پاکستان کے معاشرے کو بھی گہرے انداز میں متاثر کیا ہے۔

یہ پلیٹ فارمز جہاں ایک طرف اظہارِ رائے، کاروبار اور تعلیم کے مواقع فراہم کرتے ہیں، وہیں دوسری طرف ایک ایسا کلچر بھی جنم دے چکے ہیں جو اخلاقی حدود کو تیزی سے کمزور کررہا ہے۔ خاص طور پر انفلوئنسر کلچر نے نوجوان نسل کی سوچ، ترجیحات اور طرزِ زندگی پر نمایاں اثر ڈالا ہے۔

سوشل میڈیا، انفلوئنسرز، عوام اور طاقتور طبقے مل کر کس طرح ایک ایسا ماحول تشکیل دے رہے ہیں جہاں بے حسی، بے شرمی اور استحصال عام ہوتا جا رہا ہے۔

ابتدا میں سوشل میڈیا کو ایک مثبت پلیٹ فارم کے طور پر دیکھا جاتا تھا جہاں لوگ اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرتے، علم بانٹتے اور معاشرتی مسائل پر آواز اٹھاتے تھے۔ مگر وقت کے ساتھ یہ پلیٹ فارمز ’’توجہ حاصل کرنے کی جنگ‘‘ میں تبدیل ہوگئے۔

اب معیار نہیں بلکہ ’’وائرل ہونا‘‘ کامیابی کی علامت بن چکا ہے۔ یہی وہ موڑ ہے جہاں سے مسائل شروع ہوتے ہیں۔ جب مقصد صرف شہرت اور پیسہ ہو، تو اخلاقیات پیچھے رہ جاتی ہیں۔

انفلوئنسر بننا آج کل نوجوانوں کا خواب بن چکا ہے۔ خاص طور پر وہ لڑکیاں جو محدود وسائل کے ساتھ زندگی گزار رہی ہوتی ہیں، سوشل میڈیا کو ایک موقع سمجھتی ہیں۔ ابتدا میں ایسا کانٹینٹ بنایا جاتا ہے جس سے عوامی ہمدردی حاصل ہو اور بعد میں جب تھوڑی شہرت ملتی ہے تو آمدن کے ساتھ مقابلہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

یہ مقابلہ انہیں ایسے مواد کی طرف لے جاتا ہے جو زیادہ متنازع، نمایاں اور بعض اوقات غیر اخلاقی ہوتا ہے۔ اس مرحلے پر وہ یہ سوچنے لگتی ہیں کہ جتنا زیادہ ’’بولڈ‘‘ یا مختلف مواد ہوگا، اتنی ہی زیادہ کامیابی ملے گی مگر ایک افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ کئی کیسز میں انفلوئنسرز کو ان کے اپنے خاندان کی حمایت حاصل ہوتی ہے۔ والدین، بہن بھائی، حتیٰ کہ شوہر بھی اس عمل میں شامل ہو جاتے ہیں۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ حمایت واقعی خیرخواہی پر مبنی ہے یا محض مالی فائدے کی خاطر ہے؟ جب خاندان خود ہی اخلاقی حدود کی نگرانی چھوڑ دے، تو پھر فرد سے مثبت رویے کی توقع رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ جیسے ہی کوئی انفلوئنسر مقبول ہوتی ہے، وہ طاقتور اور امیر افراد کی نظر میں آجاتی ہے۔ انہیں پرتعیش زندگی، مزید شہرت اور بڑی کمائی کے وعدے کیے جاتے ہیں۔ دعوتیں، پارٹیاں اور نجی محفلیں اس سلسلے کا حصہ بنتی ہیں۔ لیکن یہ سب اکثر ایک جال ہوتا ہے۔

وقت کے ساتھ یہی تعلقات استحصال میں بدل جاتے ہیں۔ خواتین کو دباؤ، بلیک میلنگ اور بعض اوقات جنسی زیادتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ رضامندی کے ماحول میں شروع ہونے والا بعد میں جبر اور زبردستی کے ماحول میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ہم بحیثیت معاشرہ امیرزادوں اور بگڑے نوابزادوں کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں مگر حقائق اس کے منافی ہوتے ہیں، جہاں ایک امیرزادہ اور نوابزدہ قصور وار ہے اتنا ہی اس معاشرے کے عوام اور وہ انفلوئنسر قصور وار ہے جس نے محض چند پیسے کمانے اور مقابلے میں آگے بڑھنے کےلیے شرم و حیا کی تمام حدیں پار کیں۔

ہم بحیثیت معاشرہ وہ مواد دیکھتے ہیں جو ہمیں پسند آتا ہے اور ہم اکثر وہی مواد دیکھتے ہیں جو کہ اخلاقیات سے گرا ہوا اور متنازع ہوتا ہے۔ اور یہی رویہ اس فحش کلچر کو مضبوط کرتا ہے۔ اگر اس معاملے میں عوام اپنی ترجیحات بدل لیں تو مواد بنانے والے خود اپنی سمت تبدیل کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔

اس واقعے کے بعد عوامی اور خاندانی دباؤ میں اضافہ ہوجاتا ہے، اور متاثرہ افراد کو معاشرتی تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے حالات میں وہ انصاف کے حصول کےلیے آواز بلند کرتے ہیں، مقدمات درج ہوتے ہیں، اور سوشل و مین اسٹریم میڈیا پر ایک شور برپا ہو جاتا ہے۔ مگر اس وقت تک ایک بڑا نقصان ہوچکا ہوتا ہے۔

ہم اکثر صرف انجام پر نظر رکھتے ہیں اور پسِ پردہ عوامل کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اصل مسئلہ اس وقت شدت اختیار کرتا ہے جب یہی متاثرہ شخصیات مظلومیت کے تاثر کے ساتھ عوامی ہمدردی حاصل کرتی ہیں، اور پھر اسی نوعیت کا مواد بنا کر دوبارہ اسی دوڑ میں شامل ہو جاتی ہیں، بلکہ پہلے سے زیادہ تیزی کے ساتھ۔

دوسری جانب، حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس پیچیدہ مسئلے سے نمٹنے کےلیے اقدامات کر رہے ہیں، تاہم اس کے مستقل حل کےلیے معاشرتی رویوں میں تبدیلی بھی ناگزیر ہے۔۔ سائبر کرائم قوانین، ہراسانی کے خلاف اقدامات اور سوشل میڈیا ریگولیشنز متعارف کروائے گئے ہیں۔ اگر گہرائی میں دیکھا جائے تو یہ مسئلہ صرف سوشل میڈیا یا انفلوئنسرز تک محدود نہیں، بلکہ یہ ہمارے معاشرے کے مجموعی اخلاقی زوال کی علامت ہے۔ جب دولت کو کردار پر ترجیح دی جائے، شہرت کو عزت سے زیادہ اہم سمجھا جائے، اور وقتی فائدے کو مستقل نقصان پر فوقیت دی جائے، تو ایسے مسائل جنم لیتے ہیں۔

اگر اس مسئلے کو حل کرنے کا سوچا جائے تو یہ مسئلہ پیچیدہ ضرور ہے، مگر اس کا حل ناممکن نہیں۔ لوگوں کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ ہر وائرل چیز قابلِ تقلید نہیں ہوتی۔ اچھا کانٹینٹ بنانے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور اخلاقیات پر سوال اٹھانے والے مواد کو بالکل بھی نہ دیکھا جائے۔ ایسے افراد کو سپورٹ کیا جائے جو تعلیم، اخلاقیات اور مثبت پیغام کو فروغ دیتے ہیں۔ والدین اور خاندان کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کی رہنمائی کریں اور انہیں صحیح سمت دکھائیں۔

سوشل میڈیا ایک طاقتور ہتھیار ہے، یہ معاشرے کو بنا بھی سکتا ہے اور بگاڑ بھی سکتا ہے۔ آج جو صورتحال ہم دیکھ رہے ہیں، وہ ہماری اپنی ترجیحات اور رویوں کا نتیجہ ہے۔ انفلوئنسرز، عوام، خاندان، اور ریاست، سب کو اپنی ذمے داری سمجھنی ہوگی۔ اگر ہم نے اب بھی سنجیدگی اختیار نہ کی، تو یہ مسئلہ مزید سنگین ہوجائے گا۔ یہ وقت ہے کہ ہم فیصلہ کریں کہ ہم سوشل میڈیا کو بہتری کا ذریعہ بنانا چاہتے ہیں یا تباہی کا؟

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

Load Next Story