ذہنی تناؤ پر قابو ممکن، ماہرین نے آسان مگر مؤثر راستے بتا دیے
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ذہنی تناؤ کوئی ایسی چیز نہیں جس پر قابو نہ پایا جاسکے، بلکہ درست طرزِ زندگی اور بروقت تبدیلیاں اپنا کر اسے کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
جدید دور میں تعلیم، ملازمت، مالی دباؤ، خاندانی مسائل اور سماجی توقعات نے ذہنی دباؤ کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنا دیا ہے، جس کے اثرات نہ صرف ذہن بلکہ جسم پر بھی نمایاں ہوتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق اگر تناؤ طویل عرصے تک برقرار رہے تو یہ سنگین جسمانی بیماریوں کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مسلسل ذہنی دباؤ میں رہنے والے افراد میں فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جبکہ نیند کی کمی اور غیر متوازن معمولات اس کیفیت کو مزید بگاڑ دیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق دائمی تناؤ دماغی کارکردگی کو متاثر کرتا ہے، جس کے نتیجے میں یادداشت کمزور پڑ جاتی ہے، توجہ برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے اور فیصلہ سازی متاثر ہوتی ہے۔ اس دوران دماغ میں اہم نیوروٹرانسمیٹرز جیسے سیرٹونن اور ڈوپامائن کی سطح بھی کم ہو جاتی ہے، جو ڈپریشن، تھکن اور خوشی کی کمی جیسے مسائل کو جنم دیتی ہے۔
مزید یہ کہ تناؤ خون کی روانی پر بھی اثر انداز ہوتا ہے، جس سے دماغ کو آکسیجن اور گلوکوز کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ افراد کو مائیگرین، ذہنی دھند اور کارکردگی میں کمی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
نیورولوجسٹ کے مطابق ذہنی دباؤ کے دوران جسم میں کورٹیسول، ایڈرینالین اور ناراڈرینالین جیسے ہارمونز خارج ہوتے ہیں، جو وقتی طور پر مددگار ہوتے ہیں، مگر طویل مدت میں دل کی دھڑکن تیز، بلڈ پریشر بلند اور مختلف اعضاء پر اضافی دباؤ ڈال سکتے ہیں۔
ذہنی تناؤ صرف دماغ تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے جسم کو متاثر کرتا ہے۔ یہ وزن میں غیر معمولی کمی یا اضافہ، خواتین میں ماہواری کے مسائل، مدافعتی نظام کی کمزوری اور ذیابیطس جیسے امراض کو بھی بڑھا سکتا ہے۔ شدید صورت میں خون کی شریانوں کو نقصان پہنچنے سے فالج کا خطرہ بھی لاحق ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے سب سے پہلے اس کی وجوہات کو سمجھنا ضروری ہے۔ اس کے بعد روزمرہ معمولات میں مثبت سرگرمیاں شامل کی جائیں جیسے تیز چہل قدمی، ورزش، مراقبہ، موسیقی سننا یا فطرت کے قریب وقت گزارنا۔ ہارورڈ ہیلتھ پبلشنگ کے مطابق روزانہ 20 سے 30 منٹ قدرتی ماحول میں وقت گزارنے سے جسم میں تناؤ کا ہارمون نمایاں حد تک کم ہو سکتا ہے۔
اس کے علاوہ مثبت سوچ اپنانا، اپنے جذبات کا اظہار کرنا اور روزانہ کی بنیاد پر ڈائری لکھنا بھی ذہنی سکون میں مدد دیتا ہے۔ متوازن غذا، جس میں پروٹین زیادہ اور چینی و نمک کم ہو، ذہنی صحت کے لیے مفید سمجھی جاتی ہے، جبکہ ہفتے میں کم از کم پانچ دن 30 منٹ کی ورزش بھی تناؤ کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر تناؤ شدت اختیار کر جائے تو علمی سلوک تھراپی (سی بی ٹی) جیسے طریقہ علاج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ مجموعی طور پر ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ذہنی تناؤ کو کنٹرول کرنا ممکن ہے، بس اس کے لیے شعور، مستقل مزاجی اور مثبت طرزِ زندگی اپنانا ضروری ہے۔