قرض، سفارت اور وقار: ایک ابھرتا ہوا پاکستان

پاکستان محض ایک فریق نہیں بلکہ ایک ذمے دار ثالث کے طور پر ابھر رہا ہے

تاریخ میں کچھ لمحات ایسے آتے ہیں جب معیشت اور سفارت کاری ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر قومی بقا اور عالمی وقار کا فیصلہ کرتے ہیں، اور موجودہ صورتحال بھی کچھ اسی نوعیت کی ہے جہاں وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کا دورہ محض ایک رسمی سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ ایک مکمل ’’مشن معیشت‘‘ کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ اس وقت پاکستان جس معاشی دباؤ، عالمی مالیاتی ذمے داریوں اور خطے کی پیچیدہ سیاسی صورتحال سے گزر رہا ہے، اس میں ہر قدم نہایت سوچ سمجھ کر اٹھانا ناگزیر ہو چکا ہے۔

پاکستان کی معیشت کا ایک اہم ستون بیرونی زرمبادلہ کے ذخائر ہیں، اور حقیقت یہ ہے کہ آج ہمارے ذخائر کی مضبوطی میں برادر ممالک کا کردار نمایاں ہے، کیونکہ 21 ارب ڈالر کے موجودہ ذخائر میں سے ایک بڑی رقم چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے دوست ممالک کی مالی معاونت پر مشتمل ہے، جو نہ صرف پاکستان پر اعتماد کا اظہار ہے بلکہ ایک ایسا سفارتی سرمایہ بھی ہے جسے برقرار رکھنا اور مزید مضبوط کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، اور 6 فیصد سود پر رول اوور ہونے والے ڈپازٹس اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ ہم نے وقتی استحکام تو حاصل کیا لیکن مستقل حل کی طرف پیش رفت سست رہی، تاہم حالیہ پیش رفت خصوصاً متحدہ عرب امارات کی جانب سے قرض واپسی کا تقاضا نے ہمیں یہ احساس دلایا ہے کہ اب تاخیر کی گنجائش ختم ہو چکی ہے اور مالی نظم و ضبط کو اولین ترجیح دینا ہوگی۔

حیران کن طور پر پاکستان نے اس تقاضے کے جواب میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ یا تاخیری حربے اختیار کرنے کے بجائے فوری ادائیگی کی یقین دہانی کروا کر ایک ذمے دار ریاست ہونے کا ثبوت دیا، جو نہ صرف عالمی مالیاتی اداروں بلکہ دوست ممالک کے اعتماد کو مزید مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

یہاں ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ بعض حلقے اس مالی دباؤ کو خطے کی سیاسی کشیدگی سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، خاص طور پر خلیجی تنازعات کے تناظر میں، مگر حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی کو کسی ایک بلاک یا ملک کے تابع بنانے کے بجائے ایک متوازن اور خودمختار حکمت عملی اپنائی ہے، جس میں ثالثی کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

حالیہ ’’اسلام آباد مذاکرات‘‘ اور امریکا و ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی کے حوالے سے پاکستان کی کاوشوں نے نہ صرف عالمی سطح پر اس کی اہمیت کو اجاگر کیا بلکہ یہ بھی ثابت کیا کہ پاکستان محض ایک فریق نہیں بلکہ ایک ذمے دار ثالث کے طور پر ابھر رہا ہے، اور یہی وہ سفارتی کامیابی ہے جس نے اسلام آباد کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔

اس کامیابی کے پس منظر میں قیادت کا کردار انتہائی اہم ہے، کیونکہ وزیراعظم شہباز شریف کی معاشی سفارت کاری، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سیکیورٹی و اسٹریٹجک بصیرت، اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کی سفارتی مہارت ایک مشترکہ قومی حکمت عملی کی شکل اختیار کرچکی ہے، جس کا مقصد صرف وقتی مسائل کا حل نہیں بلکہ پاکستان کو ایک مستحکم، خودمختار اور باوقار ریاست کے طور پر عالمی سطح پر منوانا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب سے متوقع 3 ارب ڈالر کی مالی معاونت کو محض ایک قرض یا امداد کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ اسے پاکستان پر اعتماد اور اس کی پالیسیوں کی توثیق کے طور پر سمجھنا چاہیے، خاص طور پر جب اس معاونت کی میچورٹی کو 2028 تک بڑھا دیا گیا ہے، جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ سعودی قیادت پاکستان کے ساتھ طویل المدتی اقتصادی شراکت داری چاہتی ہے۔

معاشی سفارت کاری کی اصل کامیابی یہی ہوتی ہے کہ وہ مالی بحران کو موقع میں تبدیل کرے، اور پاکستان اس وقت اسی مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں اسے نہ صرف اپنے قرضوں کی ادائیگی کو یقینی بنانا ہے بلکہ اپنی معیشت کو اس نہج پر لے جانا ہے جہاں اسے بار بار بیرونی سہاروں کی ضرورت نہ پڑے۔

اس کے لیے ضروری ہے کہ برآمدات میں اضافہ، صنعتی ترقی، اور سرمایہ کاری کے فروغ کو ترجیح دی جائے، اور یہی وہ نکات ہیں جو وزیراعظم کے اس دورے کے ایجنڈے میں شامل ہوں گے، کیونکہ سعودی عرب، قطر اور ترکیہ جیسے ممالک نہ صرف مالی معاونت فراہم کرسکتے ہیں بلکہ توانائی، انفرااسٹرکچر اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں پاکستان کے لیے نئے مواقع بھی پیدا کر سکتے ہیں۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ عالمی سیاست میں عزت صرف طاقت سے نہیں بلکہ توازن اور حکمت سے حاصل ہوتی ہے، اور پاکستان نے حالیہ دنوں میں جس انداز سے اپنے قومی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے غیر جانبدارانہ پالیسی اپنائی ہے، وہ ایک نئے پاکستان کی جھلک پیش کرتی ہے، ایک ایسا پاکستان جو نہ صرف اپنے دوستوں کا احترام کرتا ہے بلکہ اپنی خودمختاری پر بھی کوئی سمجھوتہ نہیں کرتا۔

یہی وجہ ہے کہ آج جب پاکستان قرض واپس کرنے کی بات کرتا ہے تو اسے کمزوری نہیں بلکہ مضبوطی کے طور پر دیکھا جاتا ہے، کیونکہ ایک ذمے دار ریاست ہی اپنے وعدوں کی پاسداری کرتی ہے۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ’’مشن معیشت اور سفارت کاری‘‘ دراصل پاکستان کے مستقبل کی سمت کا تعین کر رہا ہے، اور اگر یہی رفتار، یہی سنجیدگی اور یہی حکمت عملی برقرار رہی تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان نہ صرف معاشی طور پر مستحکم ہوگا بلکہ عالمی سطح پر ایک بااثر اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر بھی اپنی پہچان مضبوط کرے گا، اور یہ سفر صرف حکومت کا نہیں بلکہ پوری قوم کا مشترکہ سفر ہے، کیونکہ معیشت کی مضبوطی اور سفارت کاری کی کامیابی دراصل قومی وحدت، اعتماد اور مستقل مزاجی کا نتیجہ ہوتی ہے، اور پاکستان آج اسی راستے پر گامزن دکھائی دیتا ہے جہاں مشکلات کے باوجود امکانات روشن ہیں اور چیلنجز کے باوجود کامیابی کی امید واضح نظر آتی ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

Load Next Story