میتھی کے بیج صدیوں سے روایتی طب میں استعمال ہوتے آ رہے ہیں، مگر اب جدید تحقیق بھی ان کی افادیت کی تصدیق کر رہی ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق اگر میتھی کے بیج رات بھر پانی میں بھگو کر صبح خالی پیٹ استعمال کیے جائیں تو ان کے فوائد مزید بڑھ جاتے ہیں اور یہ جسم کے لیے قدرتی توانائی کا مؤثر ذریعہ بن سکتے ہیں۔
غذائیت سے بھرپور یہ بیج فائبر، آئرن، پروٹین اور اہم وٹامنز جیسے اے، بی، سی اور کے سے مالا مال ہوتے ہیں، جبکہ ان میں میگنیشیم، مینگنیج اور پوٹاشیم جیسے معدنیات بھی شامل ہوتے ہیں۔ یہی اجزاء مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور جسم کو مختلف بیماریوں سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق بھیگی ہوئی میتھی خاص طور پر خون میں شوگر کی سطح کو متوازن رکھنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ اس میں موجود فائبر نظامِ ہاضمہ کو سست کرتا ہے، جس سے
کاربوہائیڈریٹس اور گلوکوز کے جذب ہونے کی رفتار کم ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ اس میں پائے جانے والے بعض اجزاء انسولین کی پیداوار کو بڑھانے میں بھی مددگار ہوتے ہیں، جس سے ذیابیطس کے خطرات میں کمی آ سکتی ہے۔
نظامِ ہاضمہ کے حوالے سے بھی میتھی کے بیج اہم سمجھے جاتے ہیں۔ ان میں موجود فائبر آنتوں میں مفید بیکٹیریا کی افزائش کو فروغ دیتا ہے، جس سے قبض، گیس، تیزابیت اور اپھارے جیسے مسائل میں کمی آ سکتی ہے۔ اسی وجہ سے اسے ہاضمے کے لیے ایک قدرتی معاون غذا قرار دیا جاتا ہے۔
وزن کم کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے بھی میتھی مفید ہو سکتی ہے کیونکہ اس کا فائبر معدے کو دیر تک بھرا محسوس کرواتا ہے، جس سے غیر ضروری کھانے کی عادت میں کمی آتی ہے۔ مزید یہ کہ اس میں موجود پروٹین اور معدنیات پٹھوں کو مضبوط بنانے اور جسمانی تھکن کم کرنے میں مدد دیتے ہیں، خاص طور پر ورزش کے بعد۔
دل کی صحت کے لیے بھی میتھی کے بیج فائدہ مند سمجھے جاتے ہیں، کیونکہ یہ خراب کولیسٹرول کو کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں، جس سے دل کی بیماریوں کے خطرات میں کمی ممکن ہے۔
دودھ پلانے والی ماؤں کے لیے بھی میتھی کا استعمال مفید بتایا جاتا ہے، کیونکہ اس سے دودھ کی پیداوار میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ حاملہ خواتین اور ذیابیطس کے مریض میتھی کو باقاعدہ خوراک کا حصہ بنانے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں تاکہ کسی ممکنہ نقصان سے بچا جا سکے۔