ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت (اے آئی) چیٹ بوٹس سے گفتگو کرتے وقت ’پلیز‘ اور ’تھینک یو‘ کہنا توانائی کا غیر ضروری ضیاع ثابت ہو سکتا ہے۔
ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اگر صارفین چیٹ بوٹس کے ساتھ بات چیت میں غیر ضروری شائستگی کے الفاظ استعمال نہ کریں تو سالانہ 87 سے 98 گیگا واٹ آور تک بجلی بچائی جا سکتی ہے۔
تحقیق کے مطابق یہ مقدار اتنی ہے کہ اس سے تقریباً 3 لاکھ 30 ہزار آبادی والے شہرکو پورے ایک سال تک بجلی فراہم کی جا سکتی ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اے آئی بوٹس صارفین کے ہر پیغام کو چھوٹے حصوں یا ’ٹوکنز‘ میں تقسیم کرکے پراسیس کرتے ہیں۔ جتنے زیادہ الفاظ استعمال ہوں گے، اتنے ہی زیادہ ٹوکنز پیدا ہوں گے اور اتنی ہی زیادہ کمپیوٹنگ توانائی درکار ہوگی۔ چنانچہ ’شکریہ‘، ’براہِ کرم‘ اور دیگر اضافی الفاظ بھی توانائی کے استعمال میں اضافہ کرتے ہیں۔
دنیا کا مقبول ترین چیٹ بوٹ چیٹ جی پی ٹی روزانہ تقریباً 2.5 ارب سوالات اور پیغامات پراسیس کرتا ہے، جبکہ اس کے ہفتہ وار صارفین کی تعداد 90 کروڑ کے قریب ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب کروڑوں صارفین روزانہ صرف ’ہیلو‘، ’پلیز‘ یا ’تھینک یو‘ جیسے اضافی الفاظ استعمال کرتے ہیں تو مجموعی طور پر اربوں اضافی ٹوکنز بنتے ہیں، جو توانائی کے استعمال میں نمایاں اضافہ کر دیتے ہیں۔