بِنج ایٹنگ ڈس آرڈر میں مبتلا افراد کی مدد کیلئے اہم اقدام!
ایک سروے میں بتایا گیا ہے کہ ریستورانوں کے مینو پر کیلوریز لکھنا بِنج ایٹنگ ڈس آرڈر (حد سے زیادہ کھانے کی عادت) میں مبتلا افراد کے لیے مددگار ثابت ہونے کے ساتھ ان کی بحالی میں بھی معاون ہو سکتا ہے۔
انگلینڈ میں 2022 سے یہ قانون نافذ ہے کہ 250 سے زیادہ ملازمین والے ریستوران، ٹیک اوے اور کیفے اپنے مینو پر کھانوں کی کیلوریز ظاہر کریں، تاکہ موٹاپے پر قابو پایا جا سکے۔
اگرچہ اس اقدام سے لوگوں کو صحت مند انتخاب کرنے کی ترغیب ملتی ہے لیکن شواہد یہ بھی بتاتے ہیں کہ کیلوریز کی مقدار نظر آنے کے بعد کھانے کی بیماریوں میں مبتلا افراد عموماً کم کیلوریز والے کھانے چننے لگتے ہیں۔
تاہم، یونیورسٹی کالج لندن اور کنگز کالج لندن کے محققین کو تحقیق میں معلوم ہوا کہ یہ خاص طور پر بنج ایٹنگ ڈس آرڈر والے افراد کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
یوسی ایل کے گریٹ اورمنڈ اسٹریٹ انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کی ڈاکٹر نورا ٹرومپیٹر کے مطابق کھانے کی خرابیوں میں مبتلا افراد کے کیلوری لیبلز کے بارے میں مختلف خیالات ہوتے ہیں لیکن بنج ایٹنگ ڈس آرڈر والے لوگ انہیں زیادہ مفید سمجھتے ہیں۔