معروف امریکی جریدے کا آپریشن غضبِ للحق کا تفصیلی تجزیہ، پاک فوج کی زبردست صلاحیت کا اعتراف
امریکی جریدے دی واشنگٹن ٹائمز نے پاکستان کے آپریشن “غضبِ للحق” پر تفصیلی تجزیہ پیش کرتے ہوئے اسے سرحد پار خطرات کے خلاف مؤثر حکمت عملی قرار دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ آپریشن پاکستان کی اس صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ افغانستان میں موجود دہشتگرد عناصر، خصوصاً فتنہ الخوارج اور ان کے سہولت کاروں کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنا رہا ہے۔
جریدے کا کہنا ہے کہ کارروائیوں میں ٹیکٹیکل کامیابیوں کے ساتھ ساتھ سویلین آبادی کے کم سے کم نقصان کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائیاں نہ صرف دہشتگردی کے نیٹ ورکس کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ گورننس اور سفارتی عمل کے لیے بھی سازگار ماحول فراہم کر رہی ہیں۔
جریدے کے مطابق اب تک 180 دہشتگرد پناہ گاہیں اور 30 سے زائد اجتماع گاہیں تباہ کی جا چکی ہیں، جبکہ بارڈر کنٹرول کو مؤثر بنا کر غیر قانونی آمد و رفت پر بھی قابو پایا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان افغانستان میں کسی رجیم چینج کا خواہاں نہیں بلکہ اس کا مؤقف ہے کہ افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ افغان عوام خود کریں۔
واشنگٹن ٹائمز کے مطابق نیشنل ایکشن پلان کے تحت سول اداروں کی انسدادِ دہشت گردی کی صلاحیت میں اضافہ اور داخلی سیکیورٹی کے ڈھانچے کو سیاست سے پاک کر کے پاکستان فوجی کامیابی کو دیر پا امن میں تبدیل کر سکتا ہے -
واشنگٹن ٹائمز نے کہا کہ پاکستان کا فوجی کارروائی، سفارت کاری اور سماجی عمل کو ایک مربوط اور متوازن پالیسی میں یکجا کرنا، دنیا میں اپنائے جانے والی جابرانہ حکمت عملی کا مناسب متبادل ہے-