پاکستان ثالثی نہ کرتا تو ترکیہ اسرائیل پر حملہ کردیتا؟ اردوان کی ویڈیو وائرل
سوشل میڈیا پر ان دنوں رجب طیب اردوان سے منسوب ایک بیان تیزی سے وائرل ہورہا ہے، جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اگر پاکستان، امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی نہ کرتا تو ترکیہ اسرائیل پر حملہ کردیتا۔
یہ ویڈیو 11 اپریل کو ایکس (ٹوئٹر) پر شیئر کی گئی، جس کے ساتھ ایک ایسا کیپشن شامل کیا گیا جس میں پاکستان کے کردار اور اسرائیل کے خلاف ممکنہ کارروائی کا ذکر تھا۔ اس پوسٹ کو لاکھوں افراد نے دیکھا، ہزاروں بار لائیک کیا گیا اور بڑے پیمانے پر شیئر بھی کیا گیا، جس کے بعد یہ دعویٰ دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک پھیل گیا۔
🚨 PAKISTAN IS WINNING THIS 🚨
🇹🇷 President Erdogan- "On the day of ceasefire, Israel killed hundreds of innocent Lebanese people. Netanyahu is blinded by blood & hatred. If it was not for Pakistan mediating the war between US & Iran, we would have shown Israel it's place." pic.twitter.com/yAYAPL3sCc— gulvinder (@rebelliousdogra) April 10, 2026
حقیقت جاننے کے لیے جب ویڈیو کی جانچ کی گئی تو معلوم ہوا کہ یہ کلپ دراصل 10 اپریل کو استنبول میں ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس میں اردوان کے خطاب کا حصہ ہے۔ یہ خطاب انٹرنیشنل کانفرنس آف ایشین پولیٹیکل پارٹیز (ICAPP) کے نویں اجلاس کے موقع پر کیا گیا تھا۔
مکمل ویڈیو دیکھنے سے واضح ہوتا ہے کہ اردوان نے اپنی تقریر میں پاکستان کا کوئی ذکر نہیں کیا بلکہ لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے اعلان کے دن اسرائیل نے سیکڑوں لبنانی شہریوں کو نشانہ بنایا اور انسانی اقدار کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی۔
مزید برآں، ترکیہ کے سرکاری ادارے ڈس انفارمیشن کاؤنٹر ایکشن سینٹر نے بھی اس وائرل دعوے کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ صدر اردوان نے نہ تو اسرائیل پر حملے کی بات کی اور نہ ہی پاکستان کے کسی کردار کا حوالہ دیا۔
ترک میڈیا اداروں نے بھی اس خطاب کو تفصیل سے رپورٹ کیا، تاہم کسی معتبر رپورٹ میں وہ باتیں شامل نہیں تھیں جو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔
یوں دستیاب شواہد سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ وائرل ہونے والا بیان حقیقت پر مبنی نہیں بلکہ ایک گمراہ کن دعویٰ ہے، جس میں اصل تقریر کے سیاق و سباق کو بدل کر پیش کیا گیا۔