میانمار: 4،500 قیدیوں کو رہا اور سزائے موت کے تمام کیسز کو عمرقید میں تبدیل کرنے کا فیصلہ
میانمار میں ’نئے سال‘ کی آمد پر نومنتخب صدر من آنگ ہلینگ نے 4،500 قیدیوں کو رہا اور تمام سزائے موت کے کیسز کو معاف کرے عمر قید میں تبدیل کردیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق میانمار میں روایتی نئے سال کے موقع پر صدر من آنگ ہلینگ کے حکم کے تحت 4,500 سے زیادہ قیدیوں کو عام معافی جبکہ سزائے موت پانے والے دیگر قیدیوں کی سزاؤں میں کمی کردی گئی ہے۔
رہا ہونے والوں کی لسٹ فوری طور پر دستیاب نہیں ہو سکی ہے۔ ینگون کے شمالی مضافات میں واقع انسین جیل کے مرکزی دروازے کے باہر قیدیوں کے رشتہ دار اور دوست صبح سے انتظار کر رہے ہیں۔
فیصلے میں اس بات کا کوئی اشارہ نہیں دیا گیا کہ آیا سابق رہنما آنگ سان سوچی کو رہا کیا جائے گا نہیں یا رہائی پانے والوں میں فوجی حکمرانی کی مخالفت کرنے والے ہزاروں قیدی بھی شامل ہیں یا نہیں۔
واضح رہے یہ عام معافی کا اعلان من آنگ ہلینگ کے عہدہ صدارت کے سنبھالنے کے ایک ہفتے بعد سامنے آیا ہے۔