وہ درد جو وقت بھر نہ سکا
اصل مسئلہ زندگی کے اوسط روزمرہ مسائل کا پیش آنا نہیں بلکہ ان پر ہمارا ردِعمل سب سے اہم ہوتا ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)
انسان ایک مسافر ہے اور زندگی ایک خوبصورت سفر۔ اس سفر میں جیسے پرسکون وادیوں سے گزر ہوتا ہے ویسے ہی سنگلاح گھاٹیوں سے بھی سامنا ہوجاتا ہے۔ جیسے سفر کی یادیں مسافر کے ذہن پہ نقش ہوجاتی ہیں ویسے زندگی میں بیتے کچھ سانحوں کی تکلیف دہ یادیں زندگی بھر انسان کا تواتر سےپیچھا کرتی رہتی ہیں جن کی گرفت سے وہ چاہ کر بھی خود کو آزاد نہیں کرواسکتا۔
ایسے ہی ایک ذہنی عارضے کو پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر کہتے ہیں، یعنی ماضی میں بیتے صدمہ انگیز سانحے کی تکلیف دہ یادوں کو کچھ اس شدت سے محسوس کرنا کہ انسان خود کو اسی تکلیف میں بار بار گزرتا ہوا تصور کرے۔
امریکن سائیکاٹریک ایسوسی ایشن نے پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر کو ایک ایسا ذہنی عارضے کے طور پر متعارف کروایا ہے جس میں مریض نے کسی ایسے تکلیف دہ سانحے کا خود سامنا کیا ہو، یا کسی اور کو سہتے ہوئے بڑے قریب سے دیکھا ہو، یا پھر اسے خبر دی گئی ہو، کہ جس میں موت، جسمانی تشدد، جنگ، جنسی یا کسی بھی قسم کی زیادتی شامل ہو۔ اس سانحے کا اثر تکلیف دہ یادوں، فلیش بیکس، ڈراؤنے خواب اورمنفی خیالات کی صورت باقی رہتا ہے۔
یہ اتنا سنگین ذہنی عارضہ ہے کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر 100 میں سے 4 لوگ اس میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اگر آج دنیا کی آبادی پر منطبق کرکے دیکھیں تو باآسانی کہا جاسکتا ہے کہ قریباً 32 کروڑ لوگ اس عارضے سے کسی نہ کسی صورت میں متاثر ہوتے ہیں۔
پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر کی علامات کے لحاظ سے چار اقسام میں درجہ بندی کی جاتی ہے۔
1۔ یادوں کی دخل اندازی:
تکلیف دہ یادیں زندگی بھر پیچھا کرتی ہیں۔ انسان بار بار فلیش بیکس، ڈراؤنے خوابوں اور خوفناک مناظر کی صورت میں انہیں محسوس کرتا رہتا ہے۔ اکثر ان کا ٹریگر کوئی نہ کوئی سانحے سے جڑی علامت یا یاد دہانی ہوتی ہے۔
2۔ سماجی اجتناب:
انسان متعلقہ چیزوں، انسانوں اور سرگرمیوں سے فرار حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ایسی گفتگو یا موضوعات سے بچنے کی کوشش کرتا ہے جو اس سانحے سے متعلقہ ہوں حتی کہ وہ سماجی تنہائی کا شکار ہونے لگتا ہے۔
3۔ منفی سوچ اور مزاج:
رفتہ رفتہ ایک خاص قسم کی منفی سوچ اس کے دماغ میں راسخ ہونے لگتی ہے کہ جیسے وہ غلط ہے۔ اس سوچ کے منفی اثرات جیسے بے چینی، چڑچڑاپن ، تشکیک، افسردگی اور مایوسی اس کے مزاج کا حصہ بننے لگتی ہیں۔توجہ اور نیند کی کمی ہونے لگتی ہے۔
4۔ جارحانہ ردِ عمل:
آخرکار وہ ہمہ وقت غصے اور جارحانہ پن کا مظاہرہ کرنے لگ جاتا ہے۔ دوسروں پر شک کرنے لگ جاتا ہے۔ ہر بات پہ الجھنا، جھنجھلا اٹھنا اور تکرار کرنا اس کی سرشت میں شامل ہوجاتا ہے۔
اگر آپ خود میں یا اپنے کسی عزیز میں اس طرح کی تبدیلی یا علامات دیکھیں تو یاد رکھیں یہ پوسٹ ٹرامیٹک ڈس آرڈر ہوسکتا ہے۔ اِس کا بروقت اور موثر علاج آپ کو نارمل زندگی کی طرف واپس لاسکتا ہے۔ اس کا باقاعدہ علاج ایک مستند ڈاکٹر بالخصوص ایک نیورو فزیشن کرتا ہے جبکہ ماہر نفسیات مختلف تھیراپیز کے ذریعے علامات کی شدت میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ایک ماہر نفسیات ہونے کے ناتے اس ضمن میں میری چند گزارشات درجہ ذیل ہیں:
1۔ یاد رکھیں کہ یہ ایک قابل علاج عارضہ ہے اور ذہنی عوارض کے علاج کے سلسلے میں ڈاکٹر یا ماہر نفسیات سے رجوع کرنا کوئی بری بات نہیں ہے۔
2۔ علاج کے دوران جو بھی ڈاکٹر آپ کو ادویات تجویز کریں ان کو من و عن استعمال کریں کیونکہ نفسیاتی و ذہنی عوارض کے علاج میں اپنی من مانی کرنے کا نتیجہ سنگین ثابت ہوسکتا ہے۔
3۔ اگر آپ ایسے انسان کے گھر والوں یا عزیزوں میں سے ہیں تو کوشش کریں کہ اس کی ہر ممکن مدد کریں اس کے لیے آسانی، تحفظ کے احساس اور اعتبار کا ذریعہ بنیں۔ سانحے سے جڑی کسی قسم کی کوئی یاد اس کے سامنے نہ لے کر آئیں۔ اس کو سماجی تنہائی سے بچایئں۔
4۔ پرسکون نیند ایسے انسان کے لیے نہایت ہی اہم ہوتی ہے۔ لہٰذا اس کی نیند کا مکمل خیال رکھا جائے۔ اگر ڈراؤنے خواب آنے سے وہ گھبرا جائے تو نرم رویے سے پیش آیا جائے۔
5 ۔ ڈپریشن کے دورے کی صورت میں اسے اکیلا نہ چھوڑیں۔ اسے یہ سانحہ بھلانے میں ماہر نفسیات کے ساتھ مل کر مدد کریں۔ اس سے تکرار نہ کیجیے۔
آخر میں بس یہی کہنا چاہوں گی کہ صحت ایک بہت بڑی نعمت ہے اور ذہنی صحت تو اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ دماغ کو ہمارے جسم میں ایک انتظامی سربراہ کی سی حیثیت حاصل ہے۔ ظاہر ہے جب ذہنی آسودگی میسر ہوگی تب ہی انسان جسمانی صحت کے حصول میں کامیاب ہوسکتا ہے۔ زندگی کے سفر میں بیتے سانحے اور حادثے ضرور روح پہ گہرے زخم لگا جاتے ہیں مگر تھوڑی سی ہمت اور موثر علاج کی کوشش سے زندگی کا سفر پہلے سے بھی بہتر ہوسکتا ہے۔ مایوسی کفر ہے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔