کیا کافی پینے سے عمر میں اضافہ ہوتا ہے؟ دلچسپ انکشاف

چار کپ روزانہ کو ایک مناسب حد سمجھا جاتا ہے، لیکن اس سے زیادہ مقدار نقصان دہ بھی ہوسکتی ہے

دنیا بھر میں پسند کیے جانے والے مشروب ’کافی‘ کے حوالے سے ایک دلچسپ تحقیق سامنے آئی ہے جس نے اس کے شوقین افراد کو حیران کردیا ہے۔

ماہرین کے مطابق باقاعدگی سے کافی پینے والے افراد اُن لوگوں کے مقابلے میں اوسطاً پانچ سال زیادہ زندگی گزار سکتے ہیں جو کافی نہیں پیتے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ روزانہ زیادہ سے زیادہ چار کپ کافی پینے سے جسم میں موجود ٹیلو میئرز کی لمبائی برقرار رکھنے یا بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔

ٹیلو میئرز دراصل کروموسومز کے سروں کی حفاظت کرتے ہیں اور ان کی لمبائی کو حیاتیاتی عمر کا ایک اہم پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔ جب یہ کم ہوتے ہیں تو بڑھاپے اور مختلف بیماریوں کے خطرات بڑھ جاتے ہیں، تاہم کافی میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس اور سوزش کم کرنے والے عناصر اس عمل کو سست کرسکتے ہیں۔

ماہرین نے واضح کیا کہ اگرچہ چار کپ روزانہ (تقریباً 400 ملی گرام کیفین) کو ایک مناسب حد سمجھا جاتا ہے، لیکن اس سے زیادہ مقدار فائدہ دینے کے بجائے الٹا نقصان دہ بھی ہو سکتی ہے، اس لیے اعتدال ضروری ہے۔

دوسری جانب کافی کے شوقین افراد کے لیے ایک اور سوال بھی اہم رہتا ہے کہ گرم کافی بہتر ہے یا ٹھنڈی؟ اس حوالے سے کی گئی ایک تحقیق کے مطابق دونوں اقسام کی بنیادی غذائیت تقریباً ایک جیسی ہوتی ہے، تاہم فرق ان کے استعمال کے طریقے میں آتا ہے۔
کولڈ کافی عموماً چینی، دودھ یا کریم کے ساتھ تیار کی جاتی ہے، جس سے اس میں کیلوریز اور شوگر کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور اس کے کچھ فوائد کم ہو سکتے ہیں۔

اس کے برعکس گرم کافی نہ صرف ہاضمے کے لیے مفید سمجھی جاتی ہے بلکہ یہ معدے کے افعال کو متحرک کر کے میٹابولزم کو بھی بہتر بناتی ہے۔ ماہرین کے مطابق گرم کافی توانائی میں اضافہ، ذہنی چستی اور بعض بیماریوں جیسے ٹائپ ٹو ذیابیطس اور دل کے امراض کے خطرات کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ کافی اگر مناسب مقدار میں پی جائے تو نہ صرف دن بھر کی تھکن دور کرتی ہے بلکہ طویل اور صحت مند زندگی میں بھی اپنا کردار ادا کر سکتی ہے۔

Load Next Story