یمنی حوثیوں نے ریڈ سی میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے دی

حوثیوں نے مارچ کے آخر میں امریکا اور اسرائیل کے خلاف جاری جنگ میں باقاعدہ طور پر شمولیت اختیار کی

حوثی باغیوں نے کہا ہے کہ وہ یمن میں کسی بھی ممکنہ حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے ہائی الرٹ پر ہیں۔

حوثی حکومت کے وزیر دفاع میجر جنرل محمد العاطفی کے مطابق یمنی عوام کے خلاف کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ حالیہ تنازع میں امریکی اور صہیونی دشمن کے خلاف کارروائیوں نے مختلف محاذوں کے اتحاد کو ظاہر کیا ہے اور مزاحمتی قوتوں کی عسکری حکمت عملی کو مؤثر ثابت کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مزاحمتی محور کی کارروائیاں دشمن کے خلاف کامیابی کے ساتھ جاری ہیں۔

رپورٹس کے مطابق حوثیوں نے مارچ کے آخر میں امریکا اور اسرائیل کے خلاف جاری جنگ میں باقاعدہ طور پر شمولیت اختیار کی، جس کے بعد انہوں نے اسرائیل کو نشانہ بناتے ہوئے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے کیے۔

حوثی قیادت نے واضح کیا ہے کہ وہ اس وقت تک حملے جاری رکھیں گے جب تک جنگ مکمل طور پر بند نہیں ہو جاتی۔ ان کے مطابق وہ اپنے اسلحہ ذخائر کو استعمال کرتے ہوئے حساس فوجی تنصیبات کو نشانہ بناتے رہیں گے۔

مزید برآں، حوثیوں نے ریڈ سی میں بحری آمد و رفت کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے، جس سے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق حوثیوں کی اس نئی حکمت عملی سے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے اور خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔

Load Next Story