زینہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تضاد بیانی سے ایک دنیا واقف ہے۔ حالیہ امریکا ایران جنگ کے دوران ان کے آئے دن بدلتے بیانات سے کوئی حتمی نتیجہ اخذ کرنا خاصا مشکل رہا ہے۔ جمعرات کو وہائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران نے واشنگٹن کی تقریباً تمام شرائط مان لی ہیں اور اپنا افزودہ یورینیم کا ذخیرہ ہمارے حوالے کرنے پر رضا مند ہو گیا ہے۔
دونوں فریق جنگ کے خاتمے اور امن معاہدے کے قریب ہیں۔ انھوں نے یہ کہا کہ اگر امریکا ایران معاہدہ طے پا گیا تو وہ اسلام آباد جا سکتے ہیں۔ اس موقع پر انھوں نے یہ دعویٰ کیا کہ ایران نے 20 برس تک جوہری ہتھیار نہ حاصل کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے، ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ میں 20 برس کی کسی حد کو نہیں مانتا اور اگر ایران کے ساتھ ڈیل نہ ہوئی تو جنگ دوبارہ شروع ہو جائے گی۔ اسی نشست میں انھوں نے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو زبردست شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان جنگ بندی کے لیے بہت عمدہ کام کر رہا ہے۔
ہم ایران کے ساتھ ڈیل کے بہت قریب ہیں۔ ادھر ایک سینئر ایرانی اہلکار نے برطانوی خبر رساں ایجنسی کو بتایا ہے کہ پاکستان کی ثالثی کے ذریعے تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیچیدہ معاملات پر بریک تھرو ہو گیا ہے تاہم جوہری پروگرام پر بنیادی اختلافات برقرار ہیں۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکا ایران پر عائد پابندیاں ہٹانے اور ایرانی منجمد اثاثوں کو بحال کرنے پر آمادہ ہے تاہم تہران مستقل جنگ بندی اور مستقبل میں دوبارہ حملہ نہ کرنے کی اقوام متحدہ کی ضمانت چاہتا ہے۔
پاکستان کی ثالثی میں اسلام آباد میں ہونے والے امریکا ایران کی اعلیٰ سطح قیادت کے مذاکرات میں ہر دو جانب سے دی گئی تجاویز پر 21 گھنٹے طویل بات چیت کے دوران بیش تر امور پر اتفاق رائے ہو چکا تھا۔ مذاکرات کی تان جوہری ہتھیاروں کی تیاری اور آبنائے ہرمز کی بندش پر ٹوٹی تھی۔ بعدازاں امریکا نے ہرمز کی ناکہ بندی کرکے ماحول کو اور کشیدہ کر دیا لیکن پاکستان کی جانب سے ثالثی اور ممکنہ معاہدے کے حوالے سے مخلصانہ کوششیں جاری ہیں اور وزیر اعظم شہباز شریف، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے وفود کے ہمراہ سعودی عرب، قطر، ترکیہ اور ایران کے دورے کرکے دو طرفہ تجاویز کے تبادلے اور ایران و خلیجی ممالک کی قیادت سے مفید بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا جس کے نتیجے میں یہ امید ہو چلی ہے کہ امریکا اور ایران کی اعلیٰ سطح قیادت کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد میں ہو سکتا ہے۔
وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر پر امریکا ایران اور خلیجی ممالک سب کو کامل اعتماد ہے۔ بالخصوص صدر ٹرمپ دونوں شخصیات کی قائدانہ صلاحیتوں کے خاصے معترف ہیں اور امریکا ایران جنگ سے قبل بھی وہ مختلف مواقعوں پر ان کی اعلانیہ تعریف کرتے رہے ہیں۔ غالب امکان، امید اور توقع یہی ہے کہ پاکستانی قیادت کی مخلصانہ سفارتی کاوشیں رنگ لائیں گی اور امریکا ایران دوسرے مرحلے کے مذاکرات بھی نتیجہ خیز ثابت ہوں گے اور ہر دو فریق کے درمیان اعتماد کے ساتھ قابل قبول معاہدہ طے پا جائے گا اور ہر دو جانب سے اس پر نیک نیتی کے ساتھ عمل درآمد بھی کیا جائے گا۔
امریکا ایران کے درمیان بنیادی اختلاف یورینیم کی افزودگی اور جوہری توانائی کے حصول پر پابندیوں کا ہے۔ امریکا کا موقف ہے کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی سے امن کو خطرہ لاحق ہے۔ پچھلے دنوں صدر ٹرمپ یہ بیان دے چکے ہیں کہ اگر گزشتہ سال امریکا ایران پر حملہ نہ کرتا تو وہ ایٹمی ہتھیار بنا کر امریکا اور اسرائیل پر حملہ کر دیتا، لیکن صدر ٹرمپ کے اس بیان میں کوئی صداقت نہیں۔ عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی نے ایسی کوئی شہادت نہیں دی کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنا رہا ہے، یہ محض صدر ٹرمپ کی خام خیالی ہے۔
ایران اپنے اس موقف پر تادم تحریر قائم ہے کہ عالمی قوانین کے تحت سول مقاصد کے لیے یورینیم افزودگی کا پورا اختیار حاصل ہے۔ باخبر ذرائع یہ بھی دعویٰ کر رہے ہیں کہ امریکا ایران مذاکرات کے پہلے دور میں ایران اس بات پر بھی آمادہ ہو گیا تھا کہ وہ پانچ سال تک یورینیم افزودہ نہیں کرے گا، لیکن امریکا نے اس بات کو تسلیم نہ کیا اور اسی باعث مذاکرات بے نتیجہ ختم ہو گئے۔ صدر ٹرمپ کے اس دعوے میں وزن نظر نہیں آتا کہ ایران تمام افزودہ یورینیم کو امریکا کے حوالے کرنے پر رضامند ہوگیا ہے۔
البتہ کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر جوہری سرگرمیوں پر سمجھوتہ ہو سکتا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ دونوں فریق اپنے اپنے سخت گیر موقف میں لچک پیدا کریں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورے پر ایران میں اعلیٰ ایرانی قیادت سے بات چیت کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کرکے ایک صائب فیصلہ کیا ہے جس سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 12 فی صد تک کم ہو گئیں۔ ادھر صدر ٹرمپ کی کاوشوں سے لبنان اسرائیل جنگ بندی سے کشیدگی میں مزید کمی واقع ہوئی ہے، لیکن اسرائیل پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ فلسطین میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملے جاری ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں مستقل قیام امن کے لیے ضروری ہے کہ امریکا اسرائیل اور ایران طے پانے والے معاہدوں پر نیک نیتی کے ساتھ عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ پاکستان کی ثالثی قیام امن کا زینہ ثابت ہوگی۔