امریکا پر تاریخی عدم اعتماد مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے، ایرانی صدر پزشکیان
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکا پر تاریخی عدم اعتماد جاری مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
ایکس پر اپنے ایک بیان میں ایرانی صدر نے کہا کہ بامعنی مذاکرات کے لیے وعدوں کی پاسداری بنیادی شرط ہے، تاہم امریکی حکام کی جانب سے غیر تعمیری اور متضاد بیانات صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ امریکا دراصل ایران سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایران کسی بھی قسم کے دباؤ یا طاقت کے سامنے سر نہیں جھکائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی مکالمے کی کامیابی کے لیے اعتماد اور وعدوں کی پاسداری ناگزیر ہے۔
پایبندی به تعهدات منطق موجه هر نوع گفتگوست. علاوه بر بیاعتمادی تاریخی عمیقی که در ایران نسبت به پیشینه رفتار و عملکرد دولت آمریکا وجود دارد، رویکرد غیرسازنده و متناقض مسئولین آمریکا در روزهای اخیر حاوی یک پیام تلخ است: آنها خواهان تسلیم ایرانند. مردم ایران زیر بار زور نمیروند. https://t.co/JCbZM63sdH
— Masoud Pezeshkian (@drpezeshkian) April 20, 2026
صدر پزشکیان نے مزید کہا کہ ایران کی خارجہ پالیسی خودمختاری اور قومی مفاد پر مبنی ہے اور ملک کسی بھی غیر حقیقی وعدوں یا غلط معلومات کے ذریعے عوامی اعتماد کو متاثر نہیں ہونے دے گا۔
اس سے قبل ایرانی صدر نے تہران میں سرکاری عہدے داروں سے ملاقاتوں کے دوران گفتگو میں کہا تھا کہ خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنا ضروری ہے تاکہ ایران اپنی داخلی ترقی اور تعمیر نو پر توجہ مرکوز کر سکے۔