ایران 8 خواتین کو پھانسی دینے سے باز رہے؛ صدر ٹرمپ
ایران 8 خواتین کو پھانسی نہ دیکر امریکا کیساتھ مذاکرات کا اچھا آغاز کرسکتا ہے، ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے مطالبہ کیا ہے وہ حکومت مخالف 8 خواتین ایکٹوسٹس کو پھانسی دینے کے ارادہ ترک کردے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ مطالبہ اپنی ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کیا جس میں انھوں نے یہ دعویٰ بھی کاا کہ ایرانی رہنما جلد ہی امریکی وفد کے ساتھ مذاکرات کریں گے۔
امریکی صدر نے اپنی پوسٹ کے ساتھ ایک غیر مصدقہ خبر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران 8 خواتین کو پھانسی دینے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ان خواتین کی رہائی کی بھرپور درخواست کرتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ وہ اس بات کا احترام کریں گے۔ براہ کرم انھیں کوئی نقصان نہ پہنچائیں۔
امریکی صدر نے اپنی پوسٹ میں اس امید کا بھی اظہار کیا کہ ان خواتین کو پھانسی نہ دینا ہمارے مذاکرات کے لیے ایک بہترین آغاز ثابت ہوگا۔
یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان میں جنگ بندی مذاکرات کا دوسرا دور آنے والے کل شروع ہونا تھے لیکن نائب امریکی صدر کا دورۂ موخر کردیا گیا۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ ایران کی جانب سے مذاکرات میں شرکت نہ کرنے کے اپنے فیصلے میں تبدیلی نہ کرنے کی وجہ سے یہ دورہ مؤخر کیا گیا ہے۔
ایران نے الزام عائد کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی اور ان کی مسلسل دھمکیاں جنگی جرائم ہیں۔
علاوہ ازیں امریکا نے اب تک ایرانی بحریہ کی ناکہ بندی ختم نہیں کی ہے بلکہ ایک ایرانی بحریہ کو امریکی فورسز نے اپنی تحویل میں بھی لے لیا ہے۔