سندھ ہائی کورٹ کا جے پی ایم سی کی ڈاکٹر کو ترقی نہ دینے پر بڑا حکم

سیکریٹری صحت اور ایگزیکیٹیو ڈائریکٹر جے پی ایم سی کی عدم حاضری پر عدالت کا اظہار برہمی

(فوٹو: فائل)

سندھ ہائی کورٹ نے جے پی ایم سی کی ڈاکٹر ارم بخاری ودیگر کو ترقی نا دینے کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر متعلقہ حکام کو ایک ماہ میں درخواست گزاروں کے کیسز کو دوبارہ سلیکشن بورڈ کے سامنے پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے توہین عدالت کے نامزد ملزموں سیکریٹری صحت اور ایگزیکیٹیو ڈائریکٹر جے پی ایم سی کی عدم حاضری پر برہمی کا اظہار کیا۔

عدالت نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر بھی نامزد ملزموں  کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا تھا مگر نامزد ملزمان نے نہ جواب جمع کرایا اور نہ  پیش ہوئے۔

درخواست کے مطابق دسمبر 2025 میں صوبائی الیکشن بورڈ نے ڈاکٹر سلیمان کو گریڈ 20 میں ترقی دی تھی، سلیکشن بورڈ عدالتی احکامات کے مطابق درخواست گزاروں کو زیر غور نہیں لایا۔

درخواست میں کہا گیا کہ مقررہ مدت گزرنے کے باوجود عدالتی حکم پر عمل درآمد نا کرنا توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔

سرکاری وکیل نے عدالت میں کہا کہ ڈاکٹر سلیمان کی ترقی ٹیچنگ کیڈر کے بجائے ایڈمنسٹریٹیو کیڈر کی تھی۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ بادی النظر میں عدالتی احکامات پر تاحال عمل نہیں کیا گیا ہے، متعلقہ حکام کو ایک ماہ کی مہلت دے رہے ہیں۔ ایک ماہ کے دوران درخواست گزاروں کے کیسز کو دوبارہ سلیکشن بورڈ کے سامنے پیش کیا جائے۔

 عدالت نے کہا کہ سلیکشن بورڈ کا حتمی فیصلہ وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے سے مشروط ہوگا، اس دوران درخواست گزاروں کو ہراساں نا کیا جائے۔

Load Next Story