ایسپرن بڑی آنت کے کینسر نہیں بچاتی: تحقیق
ماضی میں ہوئے ایک مطالعے پر کیے گئے نئے تجزیے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ روزانہ کم مقدار میں اسپرین لینے سے بڑی آنت کے کینسر (کولوریکٹل کینسر) کے خطرے میں نمایاں کمی تو نہیں آتی،لیکن دماغ کے اندر یا اس کے آس پاس خون بہنے (بلیڈنگ) کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
محققین کے مطابق اسپرین کا روزانہ استعمال پہلے 15 سالوں میں کولوریکٹل کینسر سے بچاؤ میں خاص مددگار ثابت نہیں ہوتا، اگرچہ طویل مدت میں کچھ حفاظتی فوائد ممکن ہو سکتے ہیں۔
تاہم، محققین نے واضح کیا کہ طویل مدتی نتائج کے بارے میں انہیں مکمل اعتماد نہیں ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ روزانہ اسپرین کا استعمال ابتدائی عرصے میں کولوریکٹل کینسر سے ہونے والی اموات میں اضافہ کر سکتا ہے لیکن 15 سال کے بعد یہ اموات کم کرنے میں مددگار ہو سکتا ہے۔البتہ محققین نے ان نتائج پر بھی عدم اعتماد کا اظہار کیا۔
مزید یہ کہ اسپرین کا مسلسل استعمال کھوپڑی کے باہر خون بہنے کے ساتھ ساتھ دماغ کے اندر اور اس کے اردگرد بلیڈنگ کے خطرے میں اضافہ کر سکتا ہے۔
محققین کے مطابق موجودہ شواہد کی بنیاد پر اسپرین کو کولوریکٹل کینسر کی ابتدائی روک تھام کے لیے معمول کے استعمال میں لانے کے بارے میں کوئی حتمی نتیجہ یا واضح ہدایات دینا ممکن نہیں۔ تحقیق کے نتائج وقت کے ساتھ بدلنے والے پیچیدہ حفاظتی اثرات اور ممکنہ نقصانات دونوں کو ظاہر کرتے ہیں، جن پر ڈاکٹروں اور مریضوں کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔