بغیر مذاکرات سیز فائر قائم
msuherwardy@gmail.com
مذاکرات ناگزیر ہیں۔مذاکرات امریکا اور ایران دونوں کی ضرورت ہیں۔ لیکن پھر بھی دونوں مذاکرات کی میز پر نہیں آئے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بغیر مذاکرات اور ڈیڈ لاک کے باوجود سیز فائر میں توسیع ہو گئی ہے۔ اس بار توسیع کی کوئی مدت نہیں ہے۔پہلا سیز فائر پندرہ دن کے لیے تھا۔ اب کوئی مدت نہیں، یہ لمبا بھی چل سکتا ہے، کل ختم بھی ہو سکتا ہے۔ امریکا کے سیز فائر کے اپنے اہداف ہیں ، ایران کے سیز فائر کے اپنے اہداف ہیں۔ لیکن خوبصورت بات یہ ہے کہ دونوں کو سیز فائر قبول ہے۔ دونوں سیزفائر کو چلانا چاہتے ہیں۔
ایران مذاکرات کے لیے نہیں آیا۔ لیکن اس نے سیز فائر میں توسیع قبول کی ہے۔ جس کا صاف مطلب ہے کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، وہ امن چاہتا ہے کیونکہ امن سب کی ضرورت ہے۔ جنگ سے تباہی اور بربادی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا، نقصان کسی کو بھی گوارہ نہیں۔جنگ سے جہاں فوجی نقصان ہوتا ہے وہاں شہری بھی محفوظ نہیں رہتے۔ اب چلائے جانے والے میزائلوں سے فوجی تنصیبات کے ساتھ ساتھ شہری علاقے ،اسکول اور اسپتال بھی نشانہ بنتے ہیں۔میزائلوں کی زد سے کوئی بھی محفوظ نہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ جب دونوں ملک سیز فائر کے لیے تیار ہیں پھر مذاکرات کیوں نہیں ہوئے۔جب مذاکرات دونوں کی ضرورت ہیں تو پھر مذاکرات کیوں نہیں ہوئے۔ دونوں نے دوبارہ مذاکرات کی میز کیوں نہیں سجائی۔ میں سمجھتا ہوں دونوں انا کے قیدی ہیں۔ انا کی جنگ نے حقیقت کو شکست دی ہے۔ دونوں کو اپنے اپنے ملک میں اپنی اپنی انا قائم رکھنی ہے۔ ایران چاہتا ہے کہ وہ فاتح قرار پائے، امریکا چاہتا ہے کہ وہ فاتح قرار پائے۔ فتح دونوں کی ضرورت ہے اور دونوں کی خواہش ہے۔ دونوں اپنے عوام کے سامنے جواب دہ ہیں لیکن دونوں حقیقی فتح کے لیے جنگ جاری بھی نہیں رکھنا چاہتے۔ جنگ بھی نہیں چاہتے اور فتح بھی چاہتے ہیں۔ اب خواہش ہے کہ لڑے بغیر فتح مل جائے۔ اس لیے دونوں جانب سے میڈیا میں فتح کے جھنڈے گاڑے جا رہے ہیں۔
کوئی بھی شکست کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ بھی دن میں تین چار انٹرویو دیتے ہیں تاکہ اپنی فتح پر امریکی عوام کو قائل کر سکیں۔ جواب میں ایرانی حکام بھی ایسی باتیں کرتے ہیں جس میں وہ اپنی فتح کے جھنڈے گاڑتے ہیں۔ اگر ایرانیوں کو امریکی صدر کی گفتگو سے مسئلہ ہے تو جواب میں امریکی بھی کہہ سکتے ہیں کہ انھیں ایرانی حکام کے بیانات سے پرابلم ہے۔
دونوں طرف ایک جیسی صورتحال ہے، دونوں اپنی اپنی فتح کا اعلان کر رہے ہیں۔ لیکن شائد ایرانی چاہتے ہیں ٹرمپ اپنی فتح کا اعلان نہ کریں۔ صرف انھیں فتح کا اعلان کرنے کا موقع دیا جائے۔ یہ کافی مشکل صورتحال ہے، دونوں کی اپنی اپنی مجبوریاں اور مسائل ہیں۔ امریکا میں بھی انتخابات ہیں، ٹرمپ کی بھی سیاسی ضروریات ہیں۔ جیسے ایرانی پاسداران انقلاب کی بھی سیاسی ضروریا ت ہیں۔ اب صورتحال یہ ہے کہ دونوں ملک جنگ نہیں چاہتے، مذاکرات چاہتے ہیں لیکن دونوں اپنی اپنی انا کے قیدی بھی ہیں۔ نا مکمل جنگ میں دونوں کے پاس فتح نہیں ہے۔ دونوں بس اعلان کرنا چاہتے ہیں۔
دونوں کو حقیقت کا اندازہ ہے، دونوں حقائق سے واقف ہیں۔ لیکن حقیقت سے منہ موڑ رہے ہیں۔ انا کو حقیقت پر غالب آنے دے رہے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اس مشکل سے کیسے باہر آیا جائے۔ اس مسئلے کا کیا حل نکالا جائے۔ فتح کے چکر میں دونوں امن کو کھونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ فتح کی تلاش میں مذاکرات کی میز کی قربانی دے رہے ہیں جس کی دونوں کو ضرورت ہے۔ لیکن فتح کے لیے مزید لڑنے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں۔ ایران کو امریکا کا اعلان کردہ سیز فائر قبول ہے۔
ایران کو نیول بلاکیڈ کے ساتھ سیز فائر قبول ہے تو پھر اس کے ساتھ مذاکرات کیوں قبول نہیں۔ یہ سوال سب پوچھ رہے ہیں۔ آپ یہ شرط تو رکھ رہے ہیں کہ پہلے آبنائے ہرمز میں نیوی کا بلاکیڈ ختم کیا جائے۔ لیکن آپ اس بلاکیڈ کو کھلوانے کے لیے جنگ کے لیے تیار نہیں۔ مزید جنگ سے بچنے کے لیے سیز فائر قبول کر رہے ہیں۔ اس لیے صورتحال دلچسپ بھی ہے اور عجیب بھی ہے، منطق سے اور حقیقت سے دور بھی ہے۔
ایک رائے یہ بھی ہے کہ دونوں طرف صاحب رائے لوگ جنگ بندی کے حق میں ہیں۔ ہم نے دونوں ملک کے صدور کے بھی مذاکرات کے حق میں بیان دیکھے ہیں۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان بھی سفارت کاری کے حق میں بیان دے رہے ہیں۔ ٹرمپ بھی مذاکرات اور ڈیل کی بات کر رہے ہیں۔ دونوں طرف سے یہ اعلان بھی کیا جا رہا ہے کہ نوے فیصد معاملات پر اتفاق ہو چکا ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ نے بھی یہی کہا ہے کہ ہم معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔ پھر رکاوٹ کیا ہے۔ رکاوٹ انا ہے۔ ان کو قربان کر کے حقیقت میں آنے سے سب ڈر رہے ہیں۔
ایک رائے یہ بھی ہے کہ اسرائیل نہ توسیز فائر کے حق میں ہے اور نہ ہی اسرائیل کسی طور جنگ بندی چاہتا ہے۔ اسرائیل جنگ جاری رکھنا چاہتا ہے۔ اس لیے جب ایران مذاکرات سے انکار کرتا ہے تو نہ چاہتے ہوئے بھی وہ اسرائیل کی گیم کھیلتا ہے۔ وہ اسرائیل کے اہداف کی تکمیل کرتا ہے۔ اس وقت اسرائیل مذاکرات کے خلاف ہے۔ اس لیے جو بھی مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ڈال رہا ہے وہ اسرائیل کی گیم کھیل رہا ہے۔ اگر ایران میں بھی کچھ لوگ مذاکرات کے خلاف ہیں تو انھیں بھی یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ آپ اسرائیل کے مفاد کا تحفظ کر رہے ہیں۔ ان کے اپنے دلائل مضبوط ہوں گے، ان کی بات میں وزن ہوگا۔ لیکن ان کے دلائل اور موقف کی وجہ سے فائدہ اسرائیل کا ہو رہا ہے۔ وہ جنگ جاری رکھنے کی بات کرکے کیوں اسرائیل کو فائدہ پہنچا رہے ہیں یہ بات بھی سمجھنے کی ہے۔
ایران کے دباؤ پر لبنان میں سیز فائر ہوا۔ لیکن اب جب ایران نے مذاکرات سے انکارکر دیا تو لبنان کا سیز فائر ختم ہوگیا۔ امریکا کی لبنان سے توجہ ختم ہو گئی۔ نہ پہلے لبنان امریکا کی ترجیح تھا اور نہ اب ہے۔ وہ تو ایران کی وجہ سے لبنان میں سیز فائر کروا رہا تھا۔ اسرائیل کو سیز فائر پر مجبور کر رہا تھا، اسرائیل کو جنگ روکنے پر مجبور کر رہا تھا۔ کیا ایرانیوں کو یہ احساس نہیں کہ ان کے مذاکرات سے انکار کی وجہ سے اسرائیل کو من مرضی کرنے کا دوبارہ موقع مل گیا ہے۔ لبنان میں امن کا موقع بھی ہاتھ سے نکل رہا ہے۔ دیکھا جائے تو ایران کے مذاکرات سے انکا ر کا اسرائیل کو لبنان میں فائدہ ہو گیا ہے۔ حزب اللہ کو نقصان ہو گیا ہے۔ اس صورتحال کا جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے۔
بہر حال امریکا جنگ نہیں چاہتا۔ ایران جنگ نہیں چاہتا۔ دونوں مزاکرات چاہتے ہیں۔ یہی حقیقت ہے۔ دونوں امن چاہتے ہیں۔ یہی حقیقت ہے۔ لیکن پھنسے ہوئے ہیں۔ اس صورتحال کا کوئی حل نظر نہیں آرہا۔ اس کا حل مذاکرات کی میز پر ہی نکل سکتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو ایسا راستہ دیں کہ اپنے اپنے ملک میں جا کر فتح کا جشن منا سکیں۔ لیکن اگر بیٹھیں گے نہیں تو راستہ کیسے دیں گے۔ پھر تو جنگ کے حامی جیت جائیں گے۔ جو دونوں کے لیے ٹھیک نہیں۔ اسی لیے تو میں کہتا ہوں مذاکرات ناگزیر ہیں۔ دونوں کی ضرورت ہیں۔ دونوں سمجھتے ہوئے بھی بھاگ رہے ہیں۔ دونوں کو اس امر کا احساس ہے کہ جنگ جاری رہی تو دونوں کو اس سے شدید نقصان اٹھاناپڑے گا۔