جنگ بندی میں توسیع کے بعد
امریکا ایران جنگ رکوانے کے لیے پاکستان کی ثالثی کے کردار کی نہ صرف امریکی و ایرانی قیادت دل سے معترف ہے بلکہ دنیا بھر کے مبصرین و تجزیہ نگار ثالثی کے تین اہم کرداروں وزیر اعظم شہباز شریف، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی شبانہ روز کاوشوں کی تعریف کر رہے ہیں۔
عالمی ذرائع ابلاغ میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حوالے سے خصوصی تذکرہ کیا جا رہا ہے کہ امریکا ایران مذاکرات میں انھوں نے کلیدی کردار ادا کیا تھا اور اب دوسرے دور کے مذاکرات کے لیے وہ بہت پرجوش اور سرگرم ہیں، ابھی چند روز پیشتر وزیر اعظم شہباز شریف اور نائب وزیر اعظم نے سعودی عرب، قطر اور ترکی کا دورہ کیا تو دوسری جانب فیلڈ مارشل نے ایران کا تین روزہ دورہ کرکے مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے راہیں ہموار کیں۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کا امریکا ایران مذاکرات میں مرکزی کردار ہے، وہ دونوں ملکوں کو کسی حتمی معاہدے تک پہنچانے کی سنجیدہ اور مخلصانہ کوشش کر رہے ہیں۔
پہلے اسلام آباد مذاکرات میں بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر بطور ثالث شریک تھے اور صدر ٹرمپ کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات کو اہم سمجھا جا رہا ہے۔ اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان، امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے وہ برق رفتار سفارتی کوشش کرتے رہے ہیں۔ فیلڈ مارشل نے اپنے سہ روزہ دورہ تہران میں ایرانی قیادت کو امریکا کی تجاویز پہنچائیں۔ رپورٹ کے مطابق 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے پہلے امریکا ایران براہ راست مذاکرات میں فیلڈ مارشل عاصم منیر بطور ثالث شریک تھے۔ پاکستان دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
پاکستان کی مخلصانہ اور سنجیدہ سفارتی کوششوں اور فیلڈ مارشل کے دورہ تہران کے بعد ہی ایرانی قیادت نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کا اعلان کیا تھا۔ توقع یہ کی جا رہی تھی کہ جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے پہلے مذاکرات کے دوسرے دور میں کوئی حتمی نتیجہ برآمد ہو جائے گا اور امریکا و ایران کسی حتمی معاہدے پر پہنچ جائیں گے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو یہ اعلان بھی کر دیا کہ امریکی وفد پاکستان جا رہا ہے اور بدھ کے روز مذاکرات ہوں گے لیکن دوسری جانب ایران نے واضح طور پر کہا کہ وہ امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم ہونے تک مذاکرات میں شریک نہیں ہوگا۔اس انکار نے صورتحال پیچیدہ بنا دی اور پاکستان بھرپورکوشش کرتا رہا کہ ایران کسی طور راضی ہو جائے اور مذاکرات کے دوسرے دور میں شریک ہو تاکہ بات آگے بڑھے اور جنگ بندی عارضی حیثیت سے مستقل حیثیت اختیار کر جائے۔
صورت حال کی نزاکت کے باوجود امریکی صدر ٹرمپ نے دھمکی آمیز لہجے میں تہران کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے بعد ایران پر دوبارہ حملہ کر دیں گے۔ انھوں نے واضح طور پر کہا کہ ڈیل ہونے تک ہرمز کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔ صدر ٹرمپ کے اشتعال انگیز بیانات نے صورت حال کو دوآتشہ کر دیا۔ امریکی ٹی وی کو ایک ٹیلی فونک انٹرویو دیتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ وہ جنگ بندی میں توسیع نہیں چاہتے۔ انھوں نے ہرمز کی ناکہ بندی کو بڑی کامیابی قرار دیا۔ ہرمز کی ناکہ بندی سے ایران کے لیے بہت سے مسائل پیدا ہو چکے ہیں۔
آبنائے ہرمز اپنی تجارتی اہمیت کے پیش نظر پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بن چکی ہے۔ اس انٹرویو میں امریکی صدر ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کچھ امید افزا باتیں بھی کیں، ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ معاملہ بڑی ڈیل کے ساتھ ختم ہوجائے گا۔ میں ایران کے ساتھ اچھی ڈیل کرنا چاہتا ہوں تاہم جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہیں کروں گا۔ اسی انٹرویو میں انھوں نے یہ کہنا بھی ضروری سمجھا کہ امریکا ضرورت پڑنے پر فوجی کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ادھر ایران نے بھی یہ واضح کر دیا ہے کہ دھمکی آمیز ماحول میں مذاکرات نہیں ہو سکتے۔موجودہ صورتحال سے یہ واضح ہوتا ہے دونوں ممالک جنگ بندی چاہتے ہیں اور دونوں کی کوشش ہے کہ کسی طور بھی جنگ دوبارہ شروع نہ ہو۔جنگ سے دونوں کا نقصان ہی ہوگا ۔
صدر ٹرمپ کی صبح شام رنگ بدلتی تضاد بیانی کے باعث دنیا بھر کے مبصرین و تجزیہ نگار امریکا ایران جنگ کے حوالے سے کوئی حتمی رائے قائم کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ بعض سفارتی و دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا ایران کے درمیان اس قدر جلد کوئی حتمی جامع اور بڑا معاہدہ ہونا مشکل نظر آتا ہے، البتہ جنگ بندی میں توسیع ہو سکتی ہے اور مذاکرات کے دوسرے دور میں کچھ چیزوں پر سمجھوتہ ہونے کا امکان تھا۔ مگر ایران کے انکار کے بعد اسلام آباد میں مذاکرات کا دوسرا دور نہیں ہوا ،تاہم حالات ابھی تک پرامن ہیں۔ تاریخ پر نظر رکھنے والے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایران امریکا کے درمیان چار دہائیوں سے زائد عرصہ تک تعلقات منقطع رہے ہیں۔ ایران کو چالیس سال سے زائد عرصہ عالمی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
اب امریکا سے تقریباً 40 روزہ جنگ کے بعد ایک دو نشستوں میں تمام متنازعہ معاملات کا طے پانا اور جامع معاہدہ ہونا عبث ہوگا۔ اس پہ مستزاد صدر ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات اور خیالات معاملات کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ تاہم خوش آیند امر یہ ہے کہ پاکستان کے ثالثی کرداروں کی پرخلوص اور نیک نیتی کے ساتھ بے مثال سفارتی کوششیں پوری شد و مد کے ساتھ جاری ہیں جس کے نتیجے میں صدر ٹرمپ نے جنگ بندی میں غیر معینہ مدت تک توسیع کا اعلان کر دیا ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ ہر دو فریق اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک قابل قبول جامع معاہدے تک پہنچنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔