سوشل میڈیا: ہر آواز معتبر نہیں

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سوشل میڈیا کے استعمال میں توازن اور شعور پیدا کریں

سوشل میڈیا، ایک ایسا لفظ جس سے آج ہر فرد نہ صرف واقف ہے بلکہ اس کا عادی ہوچکا ہے۔ یہ محض ایک ذریعہ ابلاغ نہیں رہا، بلکہ ہماری روزمرہ زندگی کا محور بن چکا ہے۔ صبح آنکھ کھلنے سے لے کر رات سونے تک، ہماری سرگرمیاں کسی نہ کسی صورت سوشل میڈیا کے گرد ہی گھومتی رہتی ہیں۔

گویا ہم اپنی حقیقی زندگی کے ساتھ ساتھ ایک ’’آن لائن زندگی‘‘ بھی گزار رہے ہیں، جس میں ہر لمحہ خود کو نمایاں کرنے کی ایک مسلسل دوڑ جاری ہے۔

اگر ہم اس کے ارتقائی سفر پر نظر ڈالیں تو حیرت ہوتی ہے کہ یہ تبدیلی کتنی تیزی سے رونما ہوئی۔ ابتدائی دور کے سادہ پلیٹ فارمز جیسے BBS اور IRC سے لے کر Six Degrees، پھر MySpace، اور بالآخر Facebook اور Instagram جیسے جدید ذرائع تک، یہ سفر نہایت مختصر عرصے میں طے ہوگیا۔

بلاشبہ، ضرورت ایجاد کی ماں ہے، اور انسان کی باہمی رابطے، اظہارِ رائے اور خودنمائی کی خواہش نے اس ٹیکنالوجی کو جنم دیا اور پروان چڑھایا۔

سوشل میڈیا نے معلومات تک رسائی کو نہایت آسان بنا دیا ہے۔ آج کسی بھی موضوع پر معلومات حاصل کرنا چند لمحوں کی بات رہ گئی ہے۔ یہ پلیٹ فارم اظہارِ رائے کی آزادی کو فروغ دیتا ہے، جہاں ہر شخص اپنی سوچ، تجربات اور خیالات بلا جھجھک دنیا کے سامنے پیش کر سکتا ہے۔

اسی آزادی نے عام انسان کو ایک آواز دی ہے، جو ماضی میں صرف مخصوص طبقات تک محدود تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آج ایک عام فرد بھی اپنی بات لاکھوں لوگوں تک پہنچا سکتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ہم سوشل میڈیا پر بے حد انحصار کرنے لگے ہیں۔ ہمیں اگر کوئی نئی ترکیب سیکھنی ہو، کسی مشکل موضوع کو سمجھنا ہو، کوئی پروڈکٹ خریدنی ہو یا محض تفریح حاصل کرنی ہو—ہر پہلو میں ہم سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہیں۔ طلبا اپنے اسباق کے لیے، خواتین گھریلو امور کےلیے، اور نوجوان تفریح اور رجحانات کو سمجھنے کے لیے اسی پلیٹ فارم کا رخ کرتے ہیں۔ گویا یہ ہماری زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی کا ذریعہ بن چکا ہے۔

تاہم، اس سہولت کے ساتھ ایک نہایت سنگین پہلو بھی جڑا ہوا ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ آج سوشل میڈیا پر ایسے افراد کی کمی نہیں جو خود کو ماہرِ نفسیات، ماہرِ امراضِ جلد یا طبی عملہ ظاہر کرتے ہوئے بغیر کسی مستند ڈگری یا تربیت کے لوگوں کو مشورے دیتے نظر آتے ہیں۔ چند ویڈیوز یا پوسٹس کی بنیاد پر لوگ خود کو ماہر ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور سننے والے ان پر آسانی سے یقین بھی کر لیتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی ان پر بھروسا کر سکتے ہیں؟ اور کیا ہمیں ایسا کرنا چاہیے؟

اسی طرح متعدد انفلوئنسرز اور بلاگرز خود کو ’’عقلِ کل‘‘ سمجھتے ہوئے ہر موضوع پر رائے دینے لگتے ہیں۔ وہ بغیر سوچے سمجھے ایسے مشورے دیتے ہیں جو بظاہر معمولی محسوس ہوتے ہیں، مگر حقیقت میں کسی کی زندگی، صحت یا ذہنی حالت پر سنگین اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، کسی جلدی مسئلے کے لیے گھریلو ٹوٹکے یا کسی ذہنی دباؤ کے لیے غیر سائنسی مشورے دینا نہ صرف غیر ذمے دارانہ عمل ہے بلکہ نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

یہاں تک کہ بعض عام اور سادہ مشورے بھی لوگوں پر منفی اثر ڈالنے لگتے ہیں۔ مثال کے طور پر انفلوئنسرز اکثر کہتے ہیں:
Be yourself یا Be bold۔ بظاہر یہ ایک معصوم نصیحت ہے جس میں کوئی برائی نہیں، لیکن لوگ اسے غلط انداز میں لے کر اپنی خامیوں کو درست کرنے کے بجائے انہیں جواز فراہم کرنے لگتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’’ہم تو ایسے ہی ہیں، ہمیں ایسے ہی قبول کرو‘‘۔ اس سوچ کے باعث نہ صرف ذاتی ترقی رک جاتی ہے بلکہ معاشرتی رویوں میں بھی بگاڑ پیدا ہوتا ہے، جہاں بدتمیزی اور خودغرضی کو ’’اصل شخصیت‘‘ کے نام پر قبول کیا جانے لگتا ہے۔

سوشل میڈیا کا ایک اور منفی پہلو یہ ہے کہ یہاں معلومات کی بھرمار تو ہے، مگر سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ غلط معلومات تیزی سے پھیلتی ہیں اور لوگ بغیر تحقیق انہیں سچ مان لیتے ہیں۔ بعض اوقات ایک جھوٹی خبر یا غلط مشورہ ہزاروں لوگوں تک پہنچ کر ان کے فیصلوں کو متاثر کردیتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف فرد کے لیے بلکہ پورے معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔

مزید برآں، سوشل میڈیا نے ایک ایسی فضا پیدا کر دی ہے جہاں ہر شخص خود کو ماہر سمجھنے لگا ہے، اور سننے والا بغیر تحقیق ہر بات کو قبول کرلیتا ہے۔ اس رجحان نے تنقیدی سوچ کو کمزور کردیا ہے۔ لوگ تحقیق کرنے، سوال اٹھانے اور حقائق جانچنے کے بجائے آسان راستہ اختیار کرتے ہیں، جو کہ سوشل میڈیا کی فوری اور دلکش معلومات کی شکل میں دستیاب ہوتا ہے۔

یہ تمام عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا جہاں ایک طاقتور ذریعۂ ابلاغ ہے، وہیں یہ ایک دو دھاری تلوار بھی ہے۔ اس کے مثبت پہلوؤں سے انکار نہیں کیا جاسکتا، لیکن اس کے منفی اثرات کو نظر انداز کرنا بھی دانشمندی نہیں۔

لہٰذا، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سوشل میڈیا کے استعمال میں توازن اور شعور پیدا کریں۔ ہر معلومات کو آنکھیں بند کر کے قبول کرنے کے بجائے اس کی تحقیق کریں، ذرائع کی تصدیق کریں، اور حساس معاملات میں ہمیشہ مستند ماہرین سے رجوع کریں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر مشورہ ہر شخص کے لیے نہیں ہوتا، اور ہر آواز قابلِ اعتبار نہیں ہوتی۔

سوشل میڈیا ایک ذریعہ ہے، فیصلہ ہمارا اپنا ہے کہ ہم اسے علم کا ذریعہ بناتے ہیں یا گمراہی کا۔ کیونکہ بعض اوقات ایک غلط رہنمائی کی قیمت صرف ایک غلطی نہیں، بلکہ ایک پوری زندگی بھی ہو سکتی ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

Load Next Story