صومالی قزاقوں کے آئل ٹینکر پر حملے میں 11 پاکستانی بھی یرغمال، اہل خانہ کی مدد کی اپیل

قزاقوں نے چار روز قبل خلیجِ عدن میں آئل ٹینکر پر حملہ کر کے یرغمال بنایا اور وہ 70 لاکھ ڈالر تاوان مانگ رہے ہیں

فوٹو فائل

صومالی قزاقوں نے آئل ٹینکر اور عملے کو اغوا کرلیا، مغویوں میں 11 پاکستانی بھی شامل ہیں، متاثرہ خاندانوں نے اپنے پیاروں کی رہائی کے لیے وزیر اعظم سے کوششوں کی اپیل کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق صومالیہ کے ساحل کے قریب مسلح قذاقوں نے ایک آئل ٹینکر اغوا کرلیا ہے، اطلاعت کے مطابق عملے میں 11 پاکستانی بھی شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق یہ واقعہ 21 اپریل 2026 کو خلیجِ عدن میں پیش آیا۔ کراچی میں موجود مغویوں کے اہل خانہ وزیر اعظم شہباز شریف اور دیگر اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے پیاروں کی واپسی کے لیے کوششیں کی جائیں۔

اہل خانہ جے ڈی سی کے دفتر پہنچ جہاں انہوں نے ظفر عباس سے ملاقات کی اور ان سے مدد کی اپیل کی۔ جے ڈی سی کے سربراہ ظفر عباس کے مطابق اغوا کاروں نے 70 لاکھ ڈالر تاوان مانگا ہے، یہ پاکستانی روپے میں تقریبا 2 ارب روپے ہیں جو وہ کسی صورت ادا نہیں کرسکتے جبکہ اغوا کو چار دن ہوگئے اور کسی حکومتی شخصیت نے رابطہ نہیں کیا۔

انہوں نے بتایا کہ کمپنی انہیں خاموش رہنے کا کہہ رہی ہے اغوا ہونے والوں کے اہل خانہ اس صورتحال سے بے حد پریشان ہیں۔

امین بن شمس کی اہلیہ نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ میرے شوہر یرغمال ہیں، میرے چھوٹے بیٹے سے والد کی ملاقات بھی نہیں ہوئی وہ ان کے جانے کے چند دن بعد پیدا ہوا تھا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت میرے شوہر کو واپس لانے کے لیے اقدامات کرے۔ امین کے والد نے کہا کہ وہ میرا اکلوتا بیٹا ہے۔

ایک اور بزرگ شہری نے کہا کہ مجھے میرا بیٹا ہر صورت چاہیے، مجھے قبرستان چھوڑ کر کون آئے گا۔

متعلقہ

Load Next Story