کتب بینی کا عالمی دن

انسانی معاشرے کی ترقی کی بنیاد علم پر ہے۔

انسانی معاشرے کی ترقی کی بنیاد علم پر ہے۔ معروف دانشور چارلس ڈارون کا کہنا ہے کہ ابتدائی انسانوں کا تعلق چمپینز کی نسل سے تھا مگر انسان نے سب سے پہلے حلق سے آوازیں نکالنی شروع کیں اور پھر اشاروں اور اشکال سے دوسروں سے ابلاغ شروع کیا۔ حلق سے نکلنے والی آوازوں کو مختلف نام دینے شروع کیے، یوں حروف تہجی بننا شروع ہوئے۔ انسانوں نے اپنے تجربات دوسروں کو بتانے شروع کیے۔ انسانوں نے دریاؤں اور ندیوں کے کنارے آباد ہونا شروع کیا، یوں انسان نے زراعت کا فن سیکھ لیا۔ اب خاندان قبیلوں میں تبدیل ہوئے۔

انسانوں نے بستیاں آباد کرنا شروع کیں۔ یہی وقت تھا جب کچھ دانا انسانوں نے رزمیہ انداز میں اپنے خیالات بیان کر نے شروع کیے۔ انسانوں نے شروع میں جانوروں کی کھالوں اور درختوں کی چھال پر لکھنا شروع کیا۔ مصر میں اہرام مصر کی کھدائی کے دوران ایسے کتبے برآمد ہوئے تھے جن پر رعایا کے لیے احکامات لکھے گئے تھے۔ انبیاء کا دور شروع ہوا، کچھ انبیاء پر کتابیں نازل ہوئیں۔

انسانوں کو ان کتابوں کو پڑھ کریہ فرق محسوس ہوا کہ حکمران بھی ان ہی کی طرح ہیں اور اﷲ تعالیٰ کی ذات ان سب سے بالاتر ہے۔ رسول اﷲ نے قرآن مجید کے ذریعے انسانوں کو محبت کا پیغام دینا شروع کیا۔ چین میں Eastern Han Period  کے دور میں کاغذ ایجاد ہوا۔ جرمنی کے ایک مکینک نے پہلا پرنٹنگ پریس ایجاد کیا۔ کاغذ اور پرنٹنگ پریس کی ایجاد نے اسی طرح تہلکہ مچایا جیسے آج کے دور میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس نے دنیا کو تبدیل کیا۔ اب کتابوں کے ذریعے علم کی ترویج آسان ہوگئی۔

اس وقت یورپ میں قدامت پرست چرچ کی آمریت تھی، دوسری طرف صنعتی دور کا آغاز ہوچلا تھا۔ سائنس دانوں نے ایسی بہت سی کتابیں لکھیں جو قدامت پرست چرچ کے نظریات کو تہس نہس کرتی تھیں۔ یہی وہ سیاہ دور تھا جب بادشاہ اور چرچ نے کتابوں کی اشاعت پر پابندیاں لگائی تھیں۔ گلیلو کے سورج اور زمین کے بارے میں نظریے نے چرچ کو ہلا کر رکھا دیا۔ گلیلو کو اس سزا کے طور پر موت کو قبول کرنا پڑا تھا۔ انٹرنیٹ پر اب بھی ان کتابوں کی فہرست موجود ہے جن پر 16ویں اور 17ویں صدی کے بادشاہ اور چرچ نے پابندیاں لگائیں۔

ان کتابوں کا مواد قدامت پرست چرچ کے فرسودہ خیالات کی نفی کرتا تھا اور بادشاہ کے مطلق العنان اختیارات کے خلاف رائے عامہ ہموار ہوتی تھی، مگر پھر جب چرچ کا تسلط ختم ہوا اور ایک جدید سیکولر جمہوری ریاست کا تصور تقویت پانے لگا تو کتابوں کی اشاعت پر پابندیاں ختم ہوئیں۔

سوشلزم کے نظریے کے تخلیق کار کارل مارکس 1818ء میں جرمنی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے فلسفہ کے مضمون میں پی ایچ ڈی کیا تھا۔ سماج کے ارتقاء کی سائنس کے گہرے مطالعے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ مظلوم طبقات کا تحفظ ایک سوشلسٹ ریاست میں ممکن ہے، انہوں نے کمیونسٹ مینی فیسٹو لکھا۔ انہوں نے شہرئہ آفاق کتاب ’’داس کیپیٹال‘‘ لکھی۔ اس کتاب کی اشاعت برطانیہ میں ہوئی۔ جرمنی کے آمر ہٹلر نے سوشلزم کے بارے میں لکھی گئی کتابوں پر پابندی عائد کی تھی۔ ہٹلر کے نازی ازم کے خلاف لکھی جانے والی شاعری اور ادب پر بھی پابندیاں عائد رہیں۔

عربوں کے عروج کے دور میں فلسفہ ،منطق اور سائنس کے موضوعات پر معرکتہ الآراء کتابیں لکھی گئیں مگر جب رجعت پسند دانش ور دربار کا حصہ بن گئے تو فلسفہ، منطق اور سائنس کے بارے میں شائع ہونے والی کتابیں زیر ِ عتاب ہوئیں۔ تاریخ شاید ہے کہ ہلاکو خان نے فروری 1259ء کو بغداد کو فتح کیا، لاکھوں افراد کو ہلاک کرنے کے علاوہ عظیم کتب خانہ House of Wisdom کو تباہ کردیا گیا اور لاکھوں نادر کتابوں کو جلا ڈالا گیا۔ ہندوستان میں مغلوں کے دور تک تعلیم ،سائنس اور تحقیق کا تصور نہیں تھا۔ مغلوں کا دور مقبروں اور باغات کے لیے شہرت رکھتا ہے۔ مسلمانوں کے ہزار سالہ اقتدار کے دور میں ہندوستان میں کوئی یونیورسٹی نہ بنی۔ صرف صوفیوں اور علماء کرام نے اپنے طریقوں سے اسلام کی تبلیغ کی۔ انگریزوں کے دور میں انگریزی کے علاوہ اردو اور دیگر زبانوں میں کتابیں شائع ہونا شروع ہوئیں۔

کلکتہ کے فورٹ ولیم کالج میں فارسی کی نادر کتابوں کے اردو میں ترجمے ہوئے۔ سائنس، فلسفہ، تاریخ، جغرافیہ، میڈیکل اور انجینئرنگ غرض ہر شعبہ سے متعلق برطانیہ اور یورپ میں شائع ہونے والی کتابیں ہندوستان میں دستیاب ہونے لگیں۔ انگریزوں نے ان کتابوں پر پابندی لگائی جن میں انگریزوں کی لوٹ مار کی داستانیں تھیں یا ہندوستان کی آزادی کا درس دیا گیا تھا مگر انگریز دور میں سائنس، ٹیکنالوجی، تاریخ، فلسفہ اور دیگر مضامین کے بارے میں شائع ہونے والی کتابوں کی تدریس سے ہندوستان کے طالب علموں کا تعلیمی معیار بلند ہوا۔ ان کتابوں کی بناء پر کئی ہندوستانی شہریوں کو نوبل انعام ملا اور انگریزی کی کتابوں کو پڑھ کر ہندوستان کے شہریوں نے انگریز حکومت کے خلاف مزاحمت کے جدید طریقے سیکھے۔

یہ اخبارات اور کتابوں کا ہی کمال تھا کہ 20ویں صدی کے پہلے 47 سال ہندوستان کے شہریوں نے آل انڈیا کانگریس کمیونسٹ پارٹی اور دیگر تنظیموں کے ذریعے انگریز راج کے خاتمے کے لیے بہت سی تحریکیں چلائیں۔ جب ہندوستان کا بٹوارہ ہوا تو نئے ملک میں کچھ تعلیمی ادارے تو موجود تھے مگر کتابیں انگریز دور کی تھیں۔ بھارت نے تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں خاطرخواہ ترقی کی۔ بھارت میں خواندگی کی شرح بھی بڑھی اور کتابیں پڑھنے کا رجحان بین الاقوامی معیار کے مطابق ہوگیا۔ بھارت میں ہر موضوع پر معیاری کتابیں شائع ہونے لگیں۔

 پاکستان میں برسر اقتدار حکومتوں نے کبھی تعلیم کو اہمیت نہیں دی۔ پاکستان کیونکہ 50ء کی دہائی سے امریکا کا اتحادی بن گیا تو اس بناء پر سوویت یونین سے آنے والی معیاری نئی کتابوں پر بار بار پابندیاں عائد کی جاتی رہیں۔ جب ایوب خان کے دورِ اقتدار سے سوویت یونین سے کچھ تعلقات بہتر ہوئے تو ماسکو کے غیر ملکی کتاب گھر کی اردو میں شائع ہونے والی کتابیں انتہائی سستے داموں ملنے لگیں، یوں پاکستانی طالب علموں کو دنیا کے عظیم ادب سے واقفیت ہوئی۔ عظیم ناول نگار میکسم گورکھی کی کتاب "Mother"جس کا ترجمہ بھارت کے معروف ادیب ظہ انصاری نے کیا تھا ترقی پسند نوجوانوں کی مقبول ترین کتاب بن گئی تھی۔

 پاکستان اور بھارت کے درمیان 1965ء کی جنگ سے پہلے تجارت ہوتی تھی۔ بھارت سے اردو ادب کے علاوہ سائنس و ٹیکنالوجی کی کتابیں پاکستان میں دستیاب ہوتی تھیں۔ پاکستانی شعراء فیض احمد فیض، جوش ملیح آبادی اور حبیب جالب کے کلام کی بھارت میں بہت مانگ تھی مگر پھر دونوں ممالک کے درمیان دو جنگوں کے بعد حالات معمول پر آئے تو بھارت کی کتابیں پاکستان میں دستیاب ہونے لگیں۔ بھارت نے ہر شعبہ میں ترقی کی، خاص طور پر انجینئر نگ، میڈیکل سائنس اور کمپیوٹر ٹیکنالوجی میں بھارت دنیا کے کئی ممالک سے آگے ہے۔ بھارت میں شائع ہونے والی ان مضامین کی کتابیں پاکستان کی یونیورسٹیوں میں اب تک پڑھائی جاتی ہیں۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی کے انقلاب کے بعد بھارت کے پروفیسروں کے سائنس کے تمام شعبوں کے لیکچر طالب علموں کی معلومات میں خاصا اضافہ کرتے ہیں۔ بھارت کے ڈیجیٹل نیٹ ورک ریختہ کے آرکائیو میں اردو ادب کا نادر خزانہ دستیاب ہے۔ ہر شخص اس خزانہ سے استفادہ کرسکتا ہے مگر ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے باوجود پرنٹنگ پریس سے شائع ہونے والی کتابوں کی ابھی تک اہمیت ہے۔ عجیب بات ہے کہ وزارت تجارت کو بھارت سے کتابوں کی درآمد پر اعتراض ہے۔ کتابوں کے دلدادہ ڈاکٹر سعید عثمانی نے وزارت تجارت کے علم دشمن رویہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں حکومت نے دنیا بھر سے جن میں اسرائیل بھی شامل ہے سائنس ، ٹیکنالوجی و کمپیوٹر وغیرہ کی کتابیں درآمد کی تھیں، ان کا فارسی میں ترجمہ کیا جاتا ہے اور دنیا بھر میں شائع ہونے والی کتابوں سے ایرانی سائنسدانوں نے بہت فائدے اٹھائے۔

 وزارت تجارت بھارت سے کتابوں کی تجارت پر پابندی لگا کر قومی مفاد کا تحفظ نہیں کررہی بلکہ علم دشمنی کا مظاہرہ کررہی ہے۔ پاکستان میں کتاب پڑھنے والوں کی تعداد انتہائی تیزی سے کم ہورہی ہے۔ اس صورتحال میں وزارت تجارت کے اس فیصلہ کا کوئی عقلی جواز نہیں ہے۔ 23 اپریل کو عالمی کتب بینی کا دن منایا گیا ، حکومت کو اس موقع پر دنیا بھر سے کتابوں کی درآمد کی اجازت دینی چاہیے اور درآمد ہونے والی کتابوں پر تمام ٹیکس ختم کردینے چاہئیں۔

Load Next Story