ریٹائرڈ اساتذہ اور سول سرونٹس کی جانب سے دائر اپ گریڈیشن سے متعلق درخواستیںمسترد

پشاور ہائی کورٹ نے تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے ان درخواستوں کو مسترد کر دیا ہے

پشاور ہائی کورٹ نے ریٹائرڈ اساتذہ اور سول سرونٹس کی جانب سے دائر اپ گریڈیشن سے متعلق درخواستوں پر تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے ان درخواستوں کو مسترد کر دیا ہے۔

درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ انہوں نے دس سالہ سروس مکمل کر لی تھی اور ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی (ڈی پی سی) کے لیے تمام ضروری دستاویزات بھی جمع کرا دی تھیں، تاہم فیصلہ آنے سے قبل وہ ریٹائر ہو چکے تھے۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق ڈی پی سی کا اجلاس بلانے سے پہلے ہی درخواست گزار ریٹائرمنٹ حاصل کر چکے تھے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد اپ گریڈیشن کا کوئی قانونی حق موجود نہیں ہوتا اور ایسی اپ گریڈیشن صرف حاضر سروس ملازمین کو ہی دی جا سکتی ہے۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ریٹائرڈ ملازمین کے لیے اپ گریڈیشن سے متعلق کوئی واضح قانون یا پالیسی موجود نہیں، لہٰذا ایسی درخواستیں ناقابلِ سماعت قرار دے کر خارج کی جاتی ہیں۔

اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل بلال خلیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر ریٹائرڈ ملازمین کو اس طرح کی اپ گریڈیشن دی گئی تو اس سے دیگر ریٹائرڈ ملازمین بھی اسی نوعیت کے مطالبات لے کر عدالتوں سے رجوع کریں گے، جس سے مالی بوجھ میں اضافہ ہوگا۔ عدالت نے اس مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے قرار دیا کہ اس نوعیت کی درخواستوں کی منظوری سے مستقبل میں بے شمار قانونی اور مالی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں، اس لیے درخواستیں مسترد کی جاتی ہیں۔

Load Next Story