میزائل سے فون کال تک

یہ سفر دراصل عالمی سیاست کی بدلتی ہوئی حقیقتوں کا آئینہ دار ہے

ایران امریکا مذاکرات کل اسلام آباد میں متوقع ہیں

عالمی سیاست کے افق پر ابھرنے والی حالیہ کشیدگیاں ایک بار پھر اس حقیقت کو آشکار کرتی ہیں کہ جنگیں صرف بارود اور بارڈر تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ان کی جڑیں معیشت، توانائی اور عالمی طاقت کے توازن میں پیوست ہوتی ہیں۔

امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کو صرف ایٹمی پروگرام کے تناظر میں دیکھنا ایک محدود تجزیہ ہے۔ اصل مسئلہ عالمی توانائی منڈیوں پر کنٹرول اور اس سے جڑی معاشی بالادستی کا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ، خصوصاً خلیجی خطہ، دنیا کے توانائی ذخائر کا مرکز ہے، اور جو طاقت اس خطے کے وسائل اور راستوں پر اثرانداز ہو، وہ عالمی معیشت کی نبض پر ہاتھ رکھتی ہے۔

یہاں ایک اہم زاویہ چین اور امریکا کے درمیان جاری معاشی و تزویراتی مقابلہ بھی ہے۔ چین اپنی ’بیلٹ اینڈ روڈ‘ حکمتِ عملی کے ذریعے نہ صرف تجارتی راستوں کو مضبوط بنا رہا ہے بلکہ توانائی کے متبادل ذرائع اور سپلائی چینز کو بھی محفوظ کر رہا ہے۔ اس کے برعکس امریکا اپنی روایتی برتری کو برقرار رکھنے کے لیے ایسے خطوں میں اثرورسوخ قائم رکھنا چاہتا ہے جہاں سے عالمی معیشت کو ایندھن ملتا ہے۔ یوں ایران محض ایک ملک نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک مقام بن جاتا ہے جہاں سے عالمی طاقتوں کی کشمکش واضح دکھائی دیتی ہے۔

اس پورے منظرنامے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت ایک متضاد اور غیر متوقع طرزِ عمل کی نمائندگی کرتی ہے۔ ایک طرف وہ سخت بیانات اور دھمکیوں کے ذریعے اپنی طاقت کا اظہار کرتے ہیں، تو دوسری طرف اچانک مذاکرات اور رابطوں کی بات کرتے ہیں۔ یہی تضاد ان کی پالیسیوں کو غیر یقینی بناتا ہے۔ اگر کسی لیڈر پر اس کی اپنی کابینہ اور پارٹی کے افراد مکمل اعتماد نہ کریں تو عالمی برادری سے یکساں اعتماد کی توقع رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی اکثر ایک واضح حکمتِ عملی کے بجائے ردِعمل پر مبنی دکھائی دیتی ہے۔

ابتدا میں بیانیہ میزائلوں، جنگی تیاریوں اور طاقت کے مظاہروں سے شروع ہوا۔ عالمی میڈیا اور سفارتی حلقوں میں تیسری عالمی جنگ کے خدشات زیرِ بحث آنے لگے۔ ایران کے خلاف سخت بیانات، فوجی نقل و حرکت، اور آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری راستے پر کنٹرول کے دعوے یہ سب ایک بڑے تصادم کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔ آبنائے ہرمز کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ دنیا کی ایک بڑی مقدار میں تیل اسی راستے سے گزرتا ہے، اور اس کی بندش عالمی معیشت کو شدید دھچکا دے سکتی ہے۔

لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہی سخت بیانیہ ایک حیران کن موڑ لیتا ہے۔ اب وہی قیادت جو کل تک جنگ کی بات کر رہی تھی، آج ایک ’فون کال‘ کے انتظار میں ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر مسئلہ بالآخر مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہونا تھا تو دنیا کو اس نہج پر کیوں لایا گیا جہاں جنگ کے بادل منڈلا رہے تھے؟ کیا یہ سب محض دباؤ ڈالنے کی حکمتِ عملی تھی یا پھر پالیسی کی غیر یقینی کا نتیجہ؟

مزید برآں، سفارتی محاذ پر بھی کئی تضادات سامنے آئے۔ بعض مواقع پر پاکستان کی کوششوں سے اسلام آباد میں جاری مذاکراتی عمل کو تقویت دینے کے بجائے ایسے فیصلے کیے گئے جنہوں نے بات چیت کے امکانات کو کمزور کیا۔ اس کے برعکس پاکستان جیسے ممالک نے ہمیشہ خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کیا ہے۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول یہی رہا ہے کہ تنازعات کو طاقت کے بجائے سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جائے۔ جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے ہوئے پاکستان نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ایک ذمے دار ریاست کے طور پر امن کے قیام کے لیے سنجیدہ ہے۔

نفسیاتی جنگ کے پہلو کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ جدید دور میں جنگ صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ بیانیے، میڈیا اور عوامی رائے کے ذریعے بھی لڑی جاتی ہے۔ ایران نے اس میدان میں ایک حد تک برتری حاصل کی ہے، جہاں اس نے خود کو ایک مزاحم قوت کے طور پر پیش کیا ہے۔ اس کے برعکس امریکا کے بیانات میں تضاد اور غیر یقینی نے اس کے بیانیے کو کمزور کیا ہے۔ کبھی ایران کی تہذیب ختم کرنے کی بات، کبھی خود کو فاتح قرار دینا، اور کبھی اتحادیوں سے مدد طلب کرنا یہ سب ایک غیر مستحکم حکمتِ عملی کی نشاندہی کرتے ہیں۔

عالمی اتحادوں کا کردار بھی اس صورتحال میں اہم ہے۔ نیٹو اور یورپی ممالک کی شمولیت کی باتیں اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہیں کہ یکطرفہ طاقت کا دور ختم ہو رہا ہے۔ آج کی دنیا میں کوئی بھی بڑی طاقت اکیلے فیصلے کرنے کی مکمل صلاحیت نہیں رکھتی۔

اس تمام کشمکش کا سب سے بڑا اثر عالمی معیشت اوردنیا کے تمام ممالک کے عام انسان پر پڑتا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، تجارتی راستوں میں رکاوٹیں، اور معاشی پابندیاں یہ سب عام شہری کی زندگی کو متاثر کرتی ہیں۔ ترقی پذیر ممالک، خصوصاً پاکستان جیسے ممالک، اس کے اثرات کو زیادہ شدت سے محسوس کرتے ہیں جہاں پہلے ہی معاشی چیلنجز موجود ہوتے ہیں۔

پاکستانی سیاسی و عسکری قیادت جس میں بالحصوص فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف، اسحاق ڈار اور دیگر افراد جو سفارتی محاظ پر اپنا کردار ادا کر رہے ہیں اُنھوں نے حالیہ عالمی کشیدگی کے دوران جس تدبر، توازن اور سفارتی بصیرت کا مظاہرہ کیا ہے، وہ نہ صرف قابلِ تحسین ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت اور ذمہ دار کردار کو بھی اجاگر کرتا ہے۔

پیچیدہ علاقائی حالات کے باوجود پاکستان نے محاذ آرائی کے بجائے مکالمے، مفاہمت اور ثالثی کی راہ اپنائی، جو ایک بالغ اور دور اندیش ریاست کی پہچان ہے۔ یہ قیادت اس حقیقت سے بخوبی آگاہ رہی کہ طاقت کا اصل استعمال جنگ کو روکنے میں ہے، نہ کہ اسے بھڑکانے میں۔ سفارتی سطح پر روابط کو فعال رکھنا، مختلف فریقین کے درمیان پل کا کردار ادا کرنا، اور دونوں فریقین کو سنتالیس سال بعد مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں پاکستان کے وقار میں اضافے کا سبب بنی ہیں۔

اس حکمتِ عملی نے نہ صرف خطے میں امن کی امید کو زندہ رکھا بلکہ پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کیا جو عالمی تنازعات میں تعمیری کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یقیناً یہ ایک ایسا لمحہ ہے جہاں پاکستانی قیادت کی کاوشیں خراجِ تحسین کی مستحق ہیں، کیونکہ انہوں نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ امن ہی اصل طاقت ہے اور مذاکرات ہی پائیدار حل کا راستہ ہیں۔

’میزائل سے فون کال تک‘ کا یہ سفر دراصل عالمی سیاست کی بدلتی ہوئی حقیقتوں کا آئینہ دار ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ سمیت تمام فیصلہ سازوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ طاقت کا مظاہرہ وقتی فائدہ دے سکتا ہے، لیکن پائیدار حل ہمیشہ مذاکرات اور سفارت کاری سے ہی نکلتا ہے۔ اگر انجام کار بات چیت ہی ہے تو بہتر یہی ہے کہ آغاز بھی وہیں سے کیا جائے۔ آج دنیا کو جنگی نعروں کی نہیں بلکہ سنجیدہ مکالمے، باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر تعاون کی ضرورت ہے۔ کیونکہ تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ جنگیں صرف تباہی لاتی ہیں، جبکہ امن ہی ترقی اور استحکام کی ضمانت دیتا ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

Load Next Story