آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار، تیل کی عالمی قیمتیں مزید بڑھ گئیں

اعداد و شمار کے مطابق ہفتے کے روز صرف 19 تجارتی جہاز اس راستے سے گزرے

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کی بڑی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کا تعطل ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق برینٹ کروڈ آئل کی قیمت میں 2 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، اور یہ تقریباً 106.99 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ یہ اضافہ اس وقت سامنے آیا جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بندی مذاکرات کا دوسرا دور طے نہ پا سکا۔

رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے نمائندوں کا پاکستان کا دورہ منسوخ کر دیا، جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی مذاکرات سے قبل ہی اسلام آباد سے روانہ ہو گئے۔

بعد ازاں عباس عراقچی سینٹ پیٹرزبرگ پہنچے جہاں وہ روسی صدر پیوٹن سمیت دیگر حکام سے ملاقاتیں کر رہے ہیں تاکہ سفارتی تعطل کو ختم کیا جا سکے۔

ادھر آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث جہازوں کی آمدورفت بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔ یہ اہم آبی گزرگاہ دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اور گیس کی ترسیل کا ذریعہ ہے، تاہم حالیہ دنوں میں یہاں سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق ہفتے کے روز صرف 19 تجارتی جہاز اس راستے سے گزرے، جبکہ عام حالات میں یومیہ اوسطاً 129 جہاز گزرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو عالمی توانائی مارکیٹ مزید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

Load Next Story